اپنے لاشعور کو پڑھیے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹
اپنے لاشعور کو پڑھیے
محمد جاوید اقبال بی۔ اے (پیدائش ۱۹۳۸) نگینہ ضلع بجنور کے رہنے والے ہیں۔ آج کل دہلی میں مقیم ہیں۔ ایمر جنسی کے دوران گرفتار ہوئے۔ ان کو سنٹرل جیل (ناسک روڈ) میں رکھا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جیل میں ان کے ساتھیوں میں سے ایک عبد الستار صاحب (پربھنی) تھے ۔ ستمبر1977 کی ایک مجلس میں انھوں نے یہ واقعہ بتایا۔ میری بھابی عرصہ سے بیمار رہتی تھیں۔ ان کو پیٹ کے عارضے تھے۔ بہت کمزور ہو گئی تھیں۔ مختلف حکیموں اور ڈاکٹروں کا علاج ہوتا رہا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بالآخر میں نے تجویز کیا کہ موصوفہ کو کسی نفسیاتی ڈاکٹر کو دکھایا جائے۔ ہم ان کو حیدر آباد لے گئے اور وہاں ایک مشہور نفسیاتی ڈاکٹر کو دکھایا۔ ان کی فیس ۵۰۰ روپیہ تھی۔ ڈاکٹر نے مریضہ کو دیکھا۔ مختلف قسم کے سوالات کئے ۔ مگر مرض کی جڑ معلوم نہ ہو سکی۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے ایک انجکشن دیا۔ یہ بے ہوشی کا انجکشن تھا۔ مگر وہ آدمی کو پوری طرح بے ہوش نہیں کرتا۔ بلکہ نیم بے ہوشی کی حالت میں پہنچا دیتا تھا۔
نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مریضہ کا شعور دب جائے اور لا شعور ابھر آئے۔ اب ڈاکٹر کے لیے ان کے لا شعور سے ربط قائم کرنا ممکن ہو گیا۔ ڈاکٹر نے موصوفہ سے سوال و جواب شروع کیا۔ نیم بے ہوشی کی وجہ سے مریضہ اب بھی سنتی تھی اور سوال کا جواب دیتی تھی۔ مگر یہ جواب اس کے لا شعور سے آتا تھا نہ کہ شعور سے۔ ڈاکٹر سوال و جواب کے ذریعہ موصوفہ کے لا شعور کو کریدتا رہا۔ بالآخر معلوم ہوا کہ اصل بات یہ ہے کہ موصوفہ کے بچے جب چھوٹے تھے تو ان کو اندیشہ لاحق ہو گیا کہ اگر میں مر گئی تو میرے بچوں کا کیا ہوگا ۔ وہ برباد ہو جائیں گے۔ یہ اندیشہ عرصہ تک موصوفہ کو پریشان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے لا شعور کا جزو بن گیا۔ لڑکے بڑے ہو گئے۔ ان میں سے کوئی لڑکا کام بھی کرنے لگا۔ اب بظاہر اندیشہ کی کوئی وجہ باقی نہیں تھی۔ حتی کہ خود مریضہ نے بھی اس انداز سے سوچنا چھوڑ دیا۔ شعوری طور پر اب یہ سوال ان کے ذہن میں نہیں تھا کہ میں مر جاؤں گی تو میرے بچوں کا کیا ہوگا" مریضہ اب اپنے خیال میں بچوں کے مستقبل کی طرف سے مطمئن تھی۔ مگر امن کی بیماری بدستور جاری تھی۔
ڈاکٹر نے موصوفہ کے لا شعور سے ربط قائم کرنے کے بعد اندازہ کیا کہ بچوں کے مستقبل کا اندیشہ اگرچہ اب ان کے شعوری ذہن میں موجود نہیں ہے، مگر وہ ان کے لاشعور کا جزو بن کر اب بھی پوری طرح باقی ہے اور وہی دراصل ان کی بیماری کا سبب ہے۔ اس تشخیص کے بعد علاج آسان تھا۔ نیم بیہوشی کی حالت میں ڈاکٹر نے موصوفہ سے جو گفتگو کی، اس میں اس نے ان کے لاشعور میں یہ خیال ڈالا کہ وہ بالکل تندرست ہیں اور وہ مرنے والی نہیں ہیں۔ ان کے بچوں کے لئے کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ ہوش میں آنے کے چند دن بعد موصوفہ کی حالت میں