Al-Risala · May 1978 · page 30

اپنے لاشعور کو پڑھیے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰

نماياں فرق تھا۔ چند مہینوں کے وقفہ سے عمل تین بار کیا گیا۔ ہر بار موصوفہ کو نیم بے ہوش کر کے ڈاکٹر ان کے لاشعور میں یہ خیالات ڈالتا کہ وہ بالکل تندرست ہیں اور ہرگز مرنے والی نہیں ہیں۔ ان کے بچوں کے لئے کسی قسم کے اندیشہ کا کوئی سوال نہیں ہے ۔ تیسری بار مریضہ بالکل اچھی ہو چکی تھیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاشعور کس طرح آدمی کے اوپر اثر انداز ہوتا رہتا ہے جدید نفسیات نے ثابت کیا ہے کہ آدمی کا بیشتر عمل اس کے لاشعور کے زیر اثر واقع ہوتا ہے۔ ہماری محبت اور نفرت، ہمارا اتفاق اور اختلاف، ہماری تعریف اور تنقید، ہماری رائیں اور فیصلے، زیادہ تر لاشعور سے صادر ہوتے ہیں، ان میں بہت کم حصہ ہمارے شعور کا ہوتا ہے۔ کوئی شخص جب ایک چیز کو قبول اور دوسری چیز کو رد کر دیتا ہے تو بظاہر اس لئے کرتا ہے کہ ایک چیز اس کو ٹھیک معلوم ہوئی اور دوسری غلط نظر آئی۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ بڑی حد تک اس کے لاشعور کا کرشمہ ہوتا ہے۔ برسہا برس سے وہ جس قسم کے افکار و خیالات کو اپنے ذہن میں جگہ دے رہا تھا، وہ سب اس کے لاشعور میں جمع ہو رہے تھے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کے لاشعور کو ایک خاص نہج پر ڈال دیا۔ اب جو چیز اس کے سامنے آتی ہے وہ خالص ذاتی وصف کی بنیاد پر اس کا جائزہ نہیں لے پاتا۔ اس کے لاشعور میں جو مزاج بنا ہوا ہے وہ اندر اندر اپنا کام کر کے آدمی کی رائے قائم کرنے کی قوت کو ایک سمت میں موڑ دیتا ہے۔

اس کا تجربہ نہایت آسانی سے اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ کسی شخص کے سامنے دو ایسے آدمیوں کا معاملہ پیش کیا جائے جن میں سے ایک ان کا پسندیدہ شخص ہو اور دوسرے کو وہ ناپسند کرتا ہو۔ بالکل ایک درجہ کی غلطی کو دونوں کی طرف منسوب کیا جائے۔ اپنے مبغوض شخص کی غلطی فوراً اس کی سمجھ میں آجائے گی۔ وہ اس پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرے گا۔ اس کے برعکس اپنی پسندیدہ شخصیت کے بارے میں وہ ٹھیک اسی درجہ کی غلطی کی تاویل کرے گا۔ اس کا غلطی ہونا اس کو نظر ہی نہ آئے گا۔ ایسا کرتے ہوئے وہ آدمی پوری طرح مخلص ہوگا۔ ایسا نہیں ہو گا کہ وہ جان بوجھ کر دو متضاد رویے اختیار کر رہا ہو۔ اسے مطلق خبر نہیں ہوگی کہ وہ ایک ہی معاملہ میں دو متضاد رویے اختیار کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ لاشعور کے تحت بول رہا ہوگا نہ کہ شعور کے تحت۔

مگر اس ’’انجان غلطی کے لئے انسان کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ آدمی کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لاشعور کی رکھوالی کرے۔ وہ لاشعور کو غلط بننے سے روکے۔ تاہم لاشعور میں غلط باتوں کے داخلہ کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ اس لئے آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود فکری کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ خود اپنے خلاف سوچے_ حتی کہ اپنے لاشعور کو دیکھنے لگے۔ جب اس کا لاشعور کسی سے غلط قسم کی محبت اور کسی سے غلط قسم کی نفرت کا جذبہ ابھارے تو وہ جان لے کہ یہ داعیات کہاں سے آرہے ہیں۔

ہر وہ شخص جو یہ چاہتا ہو کہ آخرت میں اس کو رسوا نہ ہونا پڑے، اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے لاشعور سے باخبر ہونے کی کوشش کرے_

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page