Al-Risala · May 1978 · page 31

اپنے لاشعور کو پڑھیے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۱

فرد کا جھکنا قوم کا سر بلند ہونا ہے لارڈ سالسبری (۱۹۰۳ء۔ ۱۸۳۰) ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ حکومت میں برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ اس زمانہ میں کار کا رواج نہ تھا۔ وزیر اعظم سالسبری اپنی سائیکل پر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ ایک مقام پر وہ سڑک کے غلط رخ سے گزرنے لگے۔ سٹرک پر متعین کانسٹیبل نے انھیں روکا۔ وزیر اعظم نے کانسٹیبل کو بتایا کہ میں وزیر اعظم ہوں اور چوں کہ مجھے عجلت تھی اس لئے مجھ سے ٹریفک کے ضابطہ کی خلاف ورزی ہو گئی۔ کانسٹیبل نے جواب دیا کہ میں اپنی ڈیوٹی کو بجا لانے والا کانسٹیبل ہوں۔ میرا فرض صرف یہ ہے کہ کہ ٹریفک کی خلاف ورزی نہ ہونے دوں۔ چوں کہ آپ ایک سفید ریش بزرگ ہیں اس لئے میں صرف اتنی رعایت کر سکتا ہوں کہ آپ کا چالان نہ کروں۔ لیکن اتنا آپ کو بہر حال کرناپڑے گا۔ کہ آپ واپس جائیں اور جوہاں سے سٹرک شروع ہوتی ہے وہاں سے سیدھی سمت میں آئیں ۔ وزیر اعظم نے بے چون و چرا ٹریفک کانسٹیبل کا حکم مان لیا۔ نیز اس واقعہ کا ذکر ملکہ وکٹوریہ کے پرائیویٹ سکریٹری سے خود کر کے اس فرض شناس کانسٹیبل کو خراج تحسین پیش کیا۔ برطانیہ کے دوسرے وزیر اعظم مسٹر بالڈون (۱۹۴۷ء۔ ۱۸۶۷) کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی کار میں سفر کر رہے تھے۔ ایک چوراہہ پر کار کی ٹریفک کی قطار میں ان کی گاڑی پیچھے تھی۔ راستہ کھلا تو ڈرائیور نے قبل اس کے کہ آگے کی موٹریں گزریں، وزیر اعظم کی موٹر آگے نکال لینے کی کوشش کی۔ ٹریفک کانسٹیبل نے فی الفور روکا۔ ڈرائیور نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب کو سرکاری کام کی وجہ سے جلدی ہے۔ کانسٹیل نے کہا، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ موٹر نشین کون ہے۔ قانون کی رو سے ٹریفک کی پابندی عام شہری اور وزیر اعظم دونوں پر لازم ہے۔ یہ سن کر وزیر اعظم نے موٹر سے اتر کر کانسٹیل سے معافی مانگی اور ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ کانسٹیل کے حکم کی تعمیل کرے ۔ (نیشنل ہیرلڈ جنوری ۱۹۷۸ء)

لیڈر اپنے کو اصول کے آگے جھکالے تو ساری قوم اصول کے آگے جھکنے والی بن جاتی ہے اور یہی کسی قوم کی طاقت کا سب سے بڑا راز ہے سیاست کا راز ابو فراس حمدانی عباسی دور کا شاعر ہے۔ وہ اپنے ایک قصیدہ میں کہتا ہے:

اذا ما ارسل الامراء جیشا الى الاعداء ارسلنا الکتابا یعنی ہماری دھاک کا یہ عالم ہے کہ جہاں دوسرے امراء کو مقابلہ کرنے کے لئے لشکر بھیجنا پڑتا ہے، ہاں ہم صرف خط بھیج دیتے ہیں اور وہی فیصلہ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔

یہاں ایک شعر میں شاعر نے سیاست کا راز بتا دیا ہے، سیاست یہ نہیں ہے کہ حریف سے لڑائی بھڑائی جاری رکھی جائے۔ سیاست یہ ہے کہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور اور مستحکم بنایا جائے کہ جب ضرورت پڑے تو صرف ایک "تحریر" بھیج دینا معاملہ کو ختم کرنے کے لئے کافی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page