Al-Risala · January 1978 · page 22

اسلام اور سیاست

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲

یہ امکانات ہمارا انتظار کر رہے ہیں "ہندوستان زیادہ ترقی کرتا اگر اس نے آزادی کے بعد اپنی توجہ اس پر لگادی ہوتی کہ بیل گاڑی کو زیادہ بہتر بنائے"۔ اس قسم کے جملے پر ایک عام آدمی ہنس دے گا۔ مگر سب سے زیادہ سچی بات ہے جو آزاد ہندوستان کے لئے کہی جاسکتی ہے۔ بیل گاڑی محض بیل گاڑی کا نام نہیں؛ وہ ایک ذہنیت، ایک طرزِ فکر ہے۔ جس طرح آزادی سے پہلے گاندھی جی کا چر خا محدود معنوں میں محض "چر خا" نہیں تھا، وہ ایک ذہنیت تھا۔ بیل گاڑی پر توجہ دینے کا مطلب مقامی ذرائع پر توجہ دینا تھا۔ اور اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو یقیناً آج ہندوستان دگنا زیادہ طاقت ور ہوتا۔ جیسا کہ چین کی مثال میں نظر آتا ہے۔

آج بھی ہندوستان میں تیرہ ملین بیل گاڑیاں ہیں وہ دس ملین ٹن سامان ڈھوتی ہیں اور اس پر ملک کا تین ہزار کروڑ روپیہ لگا ہوا ہے۔ اس سے ۲۰ ملین لوگوں کو روزگار ملتا ہے ۔ کافی تاخیر کے بعد اب ملک کے سائنس داں بیل گاڑی کو ترقی یافتہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ بیل کے کندھے کے اوپر سے گاڑی کے بوجھ کو گھٹائیں اور پہیہ کو بریک دینے کا طریقہ دریافت کریں۔ بیل گاڑی کے پہیہ میں بال بیرنگ اور ربڑ ٹائر کا رواج اس سے پہلے ۱۹۵۰ میں شروع ہوا تھا۔

سری لنکا کے ایک صحافی وریندر تازي وتاسي (VARINDRA TARZIE VITTACHI) ۱۹۴۶ میں مہاتما گاندھی سے دہلی میں ملے تھے۔ "ہم ایشیا کے لوگ بہت جلد آزاد ہونے والے ہیں" انھوں نے گاندھی جی سے کہا "اگر آپ کو کوئی ایک مشورہ دینا ہو تو آپ انھیں کیا مشورہ دینا پسند کریں گے" یہ سوال سن کر گاندھی جی کا چہرہ مرجھا گیا۔ انھوں نے غمگین لہجہ میں کہا: "REDUCE YOUR WANTS AND SUPPLY YOUR NEEDS. OUR NEEDS MAKE US VULNERABLE ENOUGH. WHY INCREASE OUR VULNERABILITY WITH WANTS. Newsweek, Jan. 26,1976 اپنی مانگ کو کم کرو اور اپنی ضرورت کی چیزیں خود مہیا کرو ہماری ضرورتیں ہم کو کمزور اور جراحت پذیر بناتی ہیں۔ ہم عام تصور یہ ہے کہ کسی "قدیم " تہذیب کو دوبارہ " جدید" نہیں کیا جا سکتا ۔ جس طرح آدمی کو جوانی صرف ایک بار ملتی ہے، اسی طرح تہذیب کو بھی صرف ایک بار عروج نصیب ہوتا ہے۔ اس کے بعد تہذیب پر بڑھاپا آ جاتا ہے۔ اور جو بوڑھا ہو گیا اس کو دوبارہ جوان نہیں کیا جا سکتا ۔ عمر چین کی مثال نے اس مفروضہ کی تردید کر دی ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار جیمز رسٹن (JAMES RESTON) نے پیکنگ میں اپنے طویل قیام کے بعد اپنے ذاتی مشاہدہ پر مبنی ایک رپورٹ تیار کی ہے جس کا عنوان ہے NEW LOOK OF AN ANCIENT LAND اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ " چین کی قدیم ترین تہذیب کے بارے میں جو بات سب سے زیادہ نمایاں ہے، وہ یہ کہ آج وہ دوبارہ جوان نظر آتی ہے ۔ ایک امریکی مشاہد کے نزدیک چین کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت اس کا "شباب" ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page