Al-Risala · January 1978 · page 23

PROBLEMS AND PROMISES

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳

کیوں اپنی ضرورتوں کو بڑھا کر دوسروں کے مقابلہ میں اپنی کمزوری کو بڑھائیں۔

مذکورہ صحافی لکھتے پیس " جب میں پچھلے ۳۰ سال کے واقعات کو دیکھتا ہوں تو مجھے نظر آتا ہے کہ گاندھی جی کے مشورہ پر صرف چین نے عمل کیا ، جب کہ گاندھی جی کا مشورہ چین کو پہنچا بھی نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج چین ایشیا کا سب سے طاقت ور اور خود کفیل ملک ہے۔ بقیہ تمام ممالک مغربی قوموں کے اقتصادی غلام ہیں اور ان کے قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں ۔

ہندوستان نے آزادی کے بعد اندھا دھند بدیسی تہذیب کی نقل شروع کر دی۔ ملک کے ذرائع کو کام میں لانے کی طرف کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ ڈاکٹر نکولس جیکوئے NICOLAS JEQUIER نے ایک کتاب شائع کی ہے:

APPROPRIATE TECHNOLOGY:

PROBLEMS AND PROMISES

وہ لکھتے ہیں کہ زیر ترقی ممالک کی سب سے بڑی دولت ان کی انسانی طاقت ہے۔ مگر کسی ملک میں بھی اس کو بخوبی طور پر استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ جنگل اور زراعت کی ردی چیزیں اور حیوانات کے فضلے بڑی تعداد میں روزانہ ضائع ہو رہے ہیں مگر ان کو اب تک کام میں نہیں لایا گیا۔ زراعتی اور غیر زرا عتی شعبوں میں بے شمار امکانات غیر استعمال شدہ پڑے ہوئے ہیں۔ مگر ابھی تک ان کی طرف حقیقی توجہ نہیں دی گئی ہے۔

کھانا تیار کرنے کے لئے آجکل ہندوستان میں جو گیس استعمال ہوتی ہے وہ حقیقتاً پٹرولیم کی ضمنی پیداوار (BY-PRODUCT) ہے۔ پہلے یہ گیس یوں ہی ضائع ہو جاتی تھی۔ اب اس کو خاص اہتمام سے سلنڈروں میں بھر لیا جاتا ہے۔ باورچی خانہ کے ایندھن کی حیثیت سے وہ آج ہمارے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں جن کو فضلات (WASTES) کہا جاتا ہے، وہ حقیقتاً کسی چیز کی ضمنی پیداوار ہی ہیں۔ ان کو خاطر خواہ استعمال کیا جائے تو وہ انسان کے لئے بے شمار پہلوؤں سے مفید بن سکتی ہیں۔ مثلاً دھان کی بھوسی کو لیجئے ۔ آئی ۔ ٹی ۔ آئی ۔ کان پور اور ریجنل ریسرچ لیبوریٹری جور ہاٹ میں جو تجربے کئے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوا ہے کہ دھان کی بھوسی سلیکا، سیلیلوز، فیٹوز ، لنگن جیسے قیمتی اجزاء سے مرکب ہوتی ہے اور اس کو نہایت کامیابی کے ساتھ سیمنٹ ، فائر پروف بورڈ وغیرہ کے بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بھوسی کی راکھ میں چونا ملا کر باریک ہیں دیا جائے تو نہایت عمدہ سیمنٹ تیار ہو جاتی ہے۔

ہندوستان میں ہر سال ۶۰ ملین ٹن دھان پیدا ہوتا ہے۔ دھان کی بھوسی دھان کا تقریباً ۲۰ فی صد حصہ ہوتی ہے اور بھوسی کی راکھ بھوسی کا تقریباً ۳۰ فی صد حصہ اس طرح ہندوستان میں محض بھوسی کے ذریعہ ہر سال دو ملین ٹن سے زیادہ سیمنٹ تیار کی جاسکتی ہے۔ اور اگر پیال کو اس میں شامل کر لیا جائے جو انہیں اجزاء سے مرکب ہوتا ہے جس سے بھوسی بنتی ہے تو اس کی مقدار پندرہ گنا تک بڑھ جاتی ہے۔

یہ ایک ایسا کام ہے جس کی درجنوں شاخیں ہیں۔ مثلاً بلڈنگ کے سامان اور مختلف قسم کے صنعتی کیمیکل تیار کرنا۔ ایسے چھوٹے چھوٹے پلانٹ تیار کرنا جو ملک کی ۲۵ ہزار رائس ملوں میں لگ سکیں اور ہر رائس مل مقررہ کام کے ساتھ ایک "منی سیمنٹ پلانٹ" بن جائے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک سوٹن سالانہ "بھوسی سیمنٹ"،

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page