رائے سے رجوع
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲
رائے سے رجوع
سورۂ انعام آیت ۹ (وَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُون) کی تفسیر میں ایک شاذ قول اس مفہوم کا ہے کہ "ہم ان کو وہی کپڑے پہناتے جو کپڑے یہ لوگ پہنتے ہیں۔ راقم الحروف نے ایک سوال کے جواب میں اسی قول کو ترجیح دی تھی (رسالہ اکتوبر ۱۹۷۶ء دسمبر ۱۹۷۶ء)
مگر بعد کی تحقیق سے مجھ پر واضح ہوا کہ آیت کا یہ مفہوم درست نہیں ہے۔ درست مفہوم وہی ہے جس کو جمہور مفسرین نے لیا ہے یعنی اس سے مراد اشتباہ و التباس ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کا کہنا تھا کہ خدا کو اگر اپنا دین بھیجنا تھا تو فرشتہ کے ذریعہ کیوں نہ بھیجا۔ اس کے جواب میں قرآن میں کہا گیا کہ اگر ہم فرشتہ کے ذریعہ ہدایت بھیجتے تو اس کو بھی آدمی کی صورت میں بھیجتے تاکہ اشتباہ کا پہلو باقی رہے۔ انسانی اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے، اس لئے اعلان حق کا جو بھی ذریعہ اختیار کیا جائے بہر حال حکمت امتحان کا تقاضا ہوگا کہ التباس واشتباہ کا یہ لوگ اس انسان نما فرشتہ کے باب میں بھی وہی اشکالات اور احتمالات اور وہی گنجھیاں پیدا کریں گے اور وہی کٹھ حجتی نکالیں گے جو آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کر رہے ہیں۔ اگلی آیت میں کہا گیا ہے: "اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر کیا گیا ہے پھر ان لوگوں کو جو پیغمبروں کی ہنسی اڑاتے تھے، عذاب نے آلھیرا (انعام ۱۰) ۔ قرآن میں بار بار اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ بائبل میں بھی اس کی تفصیل موجود ہے، یہاں بائبل کا ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:
"اور خداوند ان کے باپ دادا کے خدا نے اپنے پیغمبروں کو ان کے پاس بروقت بھیج بھیج کر پیغام بھیجا۔ کیوں کہ اسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر ترس آتا تھا۔ لیکن انھوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھوں میں اُڑایا اور اس کی باتوں کو ناچیز جانا۔ اور اس کے نبیوں کی ہنسی اڑائی۔ یہاں تک کہ خداوند کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا۔ (۲۔ تواریخ، ۳۶ : ۱۷ - ۱۹)
اقتباس کا پردہ نہ ہوتا تو نبیوں کا یہ انجام نہیں ہو سکتا تھا۔
پردہ باقی رکھا جائے۔ حق کا اپنی عیاں شکل میں آنا دراصل مہلت امتحان کا ختم ہونا ہے۔ اس کے بعد انسان رب العالمین کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے، نہ کہ ظلم و فساد جاری رکھنے کے لئے اس کو زمین پر باقی رکھا جائے۔
فرشتہ اگر پیغام بر بن کر آئے تو سنت الہی کی بنا پر وہ بھی انسان کی شکل میں آئے گا، اور اس وقت کسی نے اپنی دنیوی زندگی کو کامیاب بنایا ہو تو اکثر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کی آخرت بھی ضرور کامیاب رہے گی ، حالاں کہ دونوں میں کوئی لازمی تعلق نہیں ۔