رائے سے رجوع
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳
ایک سفر
مارچ ۷۹ء کا تیسرا ہفتہ میوات میں گزرا۔ اس سفر کا اصل مقصد یہ تھا کہ چند دن شہر سے دور کھلی فضا میں گزارے جائیں شہروں کی دنیا بڑی حد تک مصنوعی دنیا ہوتی ہے مگر جب آدمی آبادیوں سے دور کھلی فضا میں ہو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدرت کے قریب پہنچ گیا ہے ۔ وہ ایک ایسے آفاقی آئینہ کے سامنے ہے جہاں وہ خدا کو براہ راست دیکھ سکتا ہے ۔ میں نیم کھیڑا (ضلع گڑ گاؤں) کے باہر اوجینا ڈیرہ کے ٹیلے پر کھڑا تھا۔ آسمان کی وسعتیں ، پہاڑوں کی بلندیاں ، زمین کے قدرتی مناظر میری آنکھوں کے سامنے تھے۔ " انسانوں کی دنیا سے دور خدا کی دنیا کتنی حسین ہے " میری زبان سے نکلا۔ خدا نے دو چیزوں میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے ۔ ایک ، عالم کائنات (یدبر الامور) کی سطح پر ۔ دوسرے ، الہامی شریعت (یفضل الآیات) کی سطح پر ۔ اول الذکر مقام پر وہ براہ راست اپنی مرضی کو نافذ کر رہا ہے ۔ ثانی الذکر مقام پر وہ چاہتا ہے کہ انسان خدا کی مرضی کو جانے اور بطور خود اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرے ۔ کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے " میرے دل نے کہا ۔ " کیا تدبیر امر کی سطح پر خدا کچھ اور ہے اور تفصیل آیات کی سطح پر کچھ اور ۔ بقیہ کائنات کو خدا انتہائی محکم قوانین کی بنیادوں پر چلا رہا ہے ۔ مگر انسانوں سے اس کو مطلوب ہے کہ وہ خوابوں اور کرامتوں کی ایک پر اسرار دنیا بنا کر اس کی طلسماتی فضا میں زندگی گزاریں ۔ خدا کو شیشم یا چنار کا ایک درخت اگانا ہو تو وہ سو سال کا خاموش منصوبہ بناتا ہے ۔ مگر اپنے بندوں سے وہ چاہتا ہے کہ نعروں اور تقریروں کا طوفان اٹھا کر آناً فاناً اپنے مستقبل کو بدل ڈالیں۔ ستاروں اور کہکشاؤں کی دنیا میں وہ ہر آن متحرک ہے۔ مگر مدرسوں اور خانقاہوں میں وہ جمود اور تقلید پر راضی ہو گیا ہے۔ پھولوں اور پتیوں میں وہ خوش ذوقی کا دریا بہا رہا ہے۔ ہوا کے جھونکوں اور پانی کے جھرنوں میں وہ لطافت کا خزانہ بکھیر رہا ہے۔ آسمانوں کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی میں وہ خاموش عظمتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مگر انسانوں سے وہ چاہتا ہے کہ وہ گدھے اور کوے کی طرح چیخیں اور احتجاج اور مطالبات کی غوغا آرائی کریں۔ چہچہاتی ہوئی چڑیوں سے لے کر روشن ستاروں تک ۔ ہری بھری گھاس سے لے کر نیلے آسمان تک ہر طرف اتھاہ حکمت و صنعت نظر آتی ہے۔ ہر جگہ انتہائی با معنی سرگرمیاں جاری ہیں، مگر اپنے بندوں سے خدا ایسی عبادات پر راضی ہے جس میں کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرالینے سے بڑے بڑے مقامات طے ہوتے ہیں اور عالی شان جنتیں حاصل ہو جاتی ہیں“ حقیقت یہ ہے کہ جو دین آج مقررین اسلام اور مفکرین ملت ہر طرف تقسیم کر رہے ہیں، اس کو دین کہنا اس قرآن پر اتہام ہے جس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ ویسا قرآن سارے جن وانس مل کر بھی تصنیف نہ کر سکیں۔ ایسا دین خدا کی اس عظیم وحسین کائنات کے اندر ایک مسخرہ پن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ کائنات کی سطح پر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی دنیا رنگ اور خوشبو بکھیرنے والے پھولوں اور پیار اور بے نفسی کا سبق دینے والی چڑیوں کے لئے ہے۔