Al-Risala · May 1978 · page 34

ھل غادر الشعراء من متردم

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۴

عمر دین کے ٹھیکیدار آج جس دین کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا خدا کی جنت نملے لوگوں کا کباڑ خانہ ہے یا مسخروں کی نمائش گاہ۔ یہ بات آج لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ مگر جب صور پھونکا جائے گا اور ساری حقیقتیں کهل جائیں گی، اس وقت لوگ اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیں کے، اگرچہ اس وقت کا دیکھنا کسی کے کام نہ آئے گا۔ یہاں چند مجلسوں میں وعظ و نصیحت کا موقع بھی ملا۔ زیادہ تر حدیثیں اور صحابہ کے واقعات سنائے گئے۔ ایک تقریر کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

جب مجھ کو کہیں تقریر کرنی ہوتی ہے گو ہمیشہ ایک سوال میرا پیچھا کرتا ہے "کیا بات ہے جو میں کہوں" واقعہ یہ ہے کہ کوئی بات ایسی نہیں جو کہی نہ جا چکی ہو۔ عربی شاعر عنترہ کا ایک شعر ہے:

ھل غادر الشعراء من متردم

کیا پچھلے شعرا نے کوئی پیوند لگانے کی جگہ باقی چھوڑی ہے جس کو ہم پورا کریں۔

دینی اور اخلاقی لحاظ سے یہ بات اور زیادہ صحیح ہے حقیقت یہ ہے کہ کہنے والے ساری بات کہہ چکے ہیں۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سننے والوں کا قافلہ سننے سے پہلے جس راستہ پر چل رہا تھا، اسی راہ پر سننے کے بعد بھی چلا جا رہا ہے۔ تو یا اصل مسئلہ کہنے کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ کہنے کو پکڑنے کا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے کوئی تیار نہیں۔

میوات میں تین سو سال پہلے ایک صوفی شاعر گزرے ہیں۔ ان کے اشعار اکثر میواتیوں کو یاد ہیں۔ ان کا ایک شعر ہے :

پے پیارے گے دیس کی بڑی کٹھن ہے بیل کوئی کوئی جائیگو بھیک بی سلجھا سلجھا بیل میں سمجھتا ہوں کہ آدمی اگر پھسلے تو یہی ایک شعر اس کی اصلاح کے لئے کافی ہے۔ بھیک بی کہہ رہے ہیں کہ آخرت کا راستہ بڑا کٹھن ہے۔ یہ جھاڑیوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہی شخص منزل پر پہنچے گا جو جھاڑیوں سے بچ بچ کر چلے جو اس قسم کا اہتمام نہیں کرے گا وہ راستے میں الجھ کر رہ جائے گا۔

یہ لوگ کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں، اس کے لئے میں میں کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ کل (۱۸ مارچ ۱۹۷۷) صبح دس بجے ہم گاؤں کے باہر تھے۔ وہاں سرکار کی طرف سے بند بنایا جا رہا ہے۔ سینکڑوں مرد، عورتیں مٹی ڈھونے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک عورت جومٹی کا ٹوکرا اٹھائے ہوئے تھی، ایک مرد نے اس سے کہا کہ " یہاں مٹی ڈال "۔ اس پر عورت بگڑ گئی۔ "تو کون ہوتا ہے بتانے والا" اس نے کہا۔ پہلے لفظی تکرار ہوئی۔ اس کے بعد دونوں طرف سے لاتیاں آئیں۔ کچھ لوگ مرد کی طرف سے اور کچھ عورت کی طرف سے جمع ہوگئے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے ۔

یہ سارے کے سارے مسلمان تھے، وہ خوب جانتے تھے کہ ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی جان ، مال ، آبرو حرام ہے۔ مگر جب ایک "جھاڑی" آگئی تو اس سے بچ کر نکلنے کے لئے وہ تیار نہ ہوئے ۔ وہ جھاڑی سے الجھ گئے ۔ وہ بھول گئے کہ اس طرح وہ اپنی آخرت کی منزل کو کھونا کر رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page