اسلامی تعلیم
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵
آپ لوگ داڑھی بھی رکھتے ہیں۔ نماز اور تسبیح بھی پڑھتے ہیں۔ مگر جہاں کوئی جھاڑی آئی، اس میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ دراصل یہ ہے خدا کا فکر دلوں میں پیدا نہیں ہوا۔ ہم نے آخرت کو اپنی منزل نہیں بنایا۔ ہاتھ میں تسبیح کیوں نہ ہو۔ عملاً سارے لوگ دنیا کی منزل کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ کوئی "بے داڑھی" ہو کر اس طرف بھاگ رہا ہے، کوئی داڑھی اور تسبیح لئے ہوئے اس مقدس سفر میں مشغول ہے۔
مومن کا ہر مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے۔ مگر ہماری زندگی میں جب کوئی صورت پیش آتی ہے تو ہم فوراً اس کو دنیا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ مثلاً لڑکی کی شادی کو لیجئے ۔ ایک میوز کے گھر میں شادی کا معاملہ ہو تو خواہ کتنا ہی قرآن و حدیث سنایا جائے، وہ اسی طرح شادی کرے گا جس طرح عام دنیا پرست کو مٹا ڈالیں، اس کی معاشیات کو تباہ کر دیں، اس کی عزت کو خاک میں ملا دیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی بھول جاتا ہے کہ اس کے اور اس کے فرق کے درمیان خدا کھڑا ہوا ہے جو سارے طاقت وروں سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اگر معاملہ کا یہ پہلو ذہن میں ہو تو اپنے کسی بھائی کو ذلیل کرنے کا خیال مضحکہ خیز حد تک بے معنی معلوم ہو۔ کیوں کہ عزت اس کے لیے ہے جس کو خدا عزت دے اور ذلیل وہ ہے جو خدا کی نظر میں ذلیل قرار پائے۔
ہر کسان جانتا ہے کہ ٹوٹنے ٹوٹنے سے کوئی کھیت اپنی فصل نہیں اگاتا۔ مگر خدا کی جنت، جو تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے، اس کے متعلق فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ کچھ الفاظ زبان سے دہرا کر یا کچھ رسمی اعمال ادا کر کے مل جائے گی۔ یہ عظیم الشان بھول ہے کہ خدا کی پوری کتاب نظر انداز کر دی جائے اور کر تا ہے۔ خواہ اس کی قیمت سودی قرض اور کھیت کا رہن ہی کیوں نہ ہو۔
کوئی شخص آپ کو سخت بات کہہ دے۔ کسی سے آپ کو تکلیف پہنچ جائے تو آپ چاہتے ہیں کہ اس خدا کی ساری کائنات خاموشی کی زبان میں اس کا انکار کررہی ہے۔
مومن وہ ہے جو ہر مسئلہ کو آخرت کا مسئلہ سمجھے، جو آخرت کی عزت و ذلت کو اہمیت دے نہ کہ دنیا کی عزت و ذلت کو۔
اسلامی تعلیم
اسلامی تعلیم ایک دو طرفہ منصوبہ ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں میں علم دین کا تسلسل باقی رکھا جائے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہر دور کے اہل ایمان کو شعوری اعتبار سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے زمانہ کے فکری مسئلوں پر دین کی معرفت حاصل کر سکیں ۔ پہلے مقصد کے حصول کا دائمی ذریعہ قرآن اور اسوۂ رسول کی تعلیم ہے ۔ مگر دوسرے مقصد کے لئے کوئی دائمی نصاب نہیں ہو سکتا۔ اس کا تعین اس دور کے علمی و ذہنی حالات سے ہوتا ہے جس دور کے لئے نصاب مقرر کرنا مقصود ہو۔