MODERNISERS IN RETREAT
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۷
کے مالکوں نے ان کی مدد کی کیونکہ دونوں کا مفاد کم از کم جزوی طور پر ایک ہو گیا تھا۔
پٹرول کی دولت جن ملکوں میں ظاہر ہوئی ہے، ان میں سے اکثر ملکوں میں شیوخ اور ملوک حکمران ہیں۔ جدت پسند مسلمان، جن کا ذہن جمہوریت اور سوشلزم کے تصورات سے بنا ہے، وہ ان کو قبول نہیں کر رہے تھے۔ ان حکمرانوں کو مسلسل ان کی طرف سے جوابی انقلاب کا خطرہ لگا رہتا تھا، مصر، عراق، شام، لیبیا میں یہ گروہ ملوکیت کے ادارہ کو ختم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ دوسرے ملکوں میں ان کی سرگرمیاں جاری ہیں، ایران کے بادشاہ کو مصدق نے معزول کرنے کی ناکام کوشش کی۔ جہاں عبد الناصر نے سعودی عرب میں ملوکیت کے خلاف جنگ چھیڑ دی، کویت کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ شیخ کویت کے اختیارات کو کم کر کے جمہوریت لانا چاہتا ہے۔ یہی صورتِ حال کم و بیش اکثر ممالک میں پائی جاتی ہے، ان حالات میں شیوخ و ملوک نے، دوسری حفاظتی کوششوں کے ساتھ، ایک تدبیر یہ اختیار کی ہے کہ نہ صرف اپنے ملکوں میں بلکہ ساری مسلم دنیا میں روایت پرست طبقہ کو ابھارا جائے۔ جدت پسند طبقہ کے زور کو گھٹایا جائے، اس طرح انھیں امید ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کو مضبوط کر سکیں گے۔
ان حالات میں جو لوگ سیاسی اچھل کود کر رہے ہیں یا تقریر و تحریر کے کمالات دکھا رہے ہیں، وہ صرف موقع پرستی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اور عوام میں سے جو ان فنانشن پر خوش ہو رہے ہیں، وہ سطحیت کا مظاہر کر رہے ہیں، اور یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ موقع پرستی اور سطحیت کی زمین پر دین حق کا محل کھڑا ہو جائے۔ کم از کم موجودہ دنیا میں اس قسم کا واقعہ ظہور میں نہیں آ سکتا۔ ایسے معجزات دکھانے کے لئے ہمیں دوسرے زمین و آسمان بنانے پڑیں گے۔
* خارجی ختم ہو گئے خارجیت زندہ ہے ایک بار خارجی فرقہ کے چالیس آدمیوں نے ابن زیاد کے دو ہزار سپاہیوں کو مار بھگایا تھا۔ اس پر ایک خارجی شاعر نے فاتحانہ نظم لکھی۔ چند اشعار یہ ہیں: أنا مؤمن فيما زعمتم ويقتلكم بأساك ارجعونا كذبتم ليس ذالك كما زعمتم ولكن الخوارج مومنونا هى الفئة القليلة قد غلبتم على الفئة الكثيرة ينص دنا کیا تم اپنے گمان کے مطابق دو ہزار مومن تھے اور تم کو مقام آسک پر صرف چالیس نے مار بھگایا، تم جھوٹے ہو اور تمارا خیال غلط ہے، در حقیقت خوارج مومن ہیں، تم نے جان لیا کہ یہی وہ تھوڑی جماعت ہے جو بڑی جماعت پر غالب آتی ہے۔
خارجی شاعر کی اس دلیل کو آج کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ آج بھی ہمارے درمیان بے شمار لوگ ہیں جو اس قسم کی وقتی اور ظاہری کامیابیوں کو اپنی صداقت کا لازمی ثبوت سمجھتے ہیں ۔ خارجی فرقہ دنیا سے ختم ہو گیا، مگر خارجیت آج بھی دنیا میں زندہ ہے۔