Al-Risala · May 1978 · page 38

وضعی قانون اور الہی قانون

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸

وضعی قانون اور الہی قانون

راسکو پاؤنڈ - ۱۸۷۰) نے قانون کا مقصد سماجی انجینئرنگ (SOCIAL ENGINEERING) بتایا ہے، یہ بیان یقیناً صحیح ہوتا بشرطیکہ پاؤنڈ (ROSCOE POUND) یہ بھی ثابت کرسکتا کہ انسانی سماج کمپیوٹروں کا ایک مجموعہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے امریکی پروفیسر کے لئے یہ ثابت کرنا ممکن نہیں۔ اندر ہی وہ مقام ہے جہاں وضعی قانون کی اس کم زوری کا راز چھپا ہوا ہے جس کی بنا پر وہ ڈھائی ہزار سالہ کوششوں کی تاریخ رکھنے کے باوجود اب تک اپنا کوئی قابل قبول اصول قانون دریافت نہ کرسکا۔

ایک شخص جب اصول قانون کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے سامنے تقریباً ایک درجن بڑے اسکولوں کے نام آتے ہیں۔ مگر فنی تفصیلات سے قطع نظر کرکے دیکھا جائے تو ان مدارسِ فکر کو اصولی طور پر دو قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ ایک، نظریاتی اصولِ قانون (IDEOLOGICAL JURISPRUDENCE) جو اس تلاش میں مصروف ہے کہ "قانون کو کیسا ہونا چاہئے" (LAW AS IT OUGHT TO BE) - دوسرے، تحلیلی اصولِ قانون (ANALYTICAL JURISPRUDENCE) جو قانون کی تعبیر ویسی ہی کرنا چاہتا ہے "جیسا کہ وہ ہے" (LAW AS IT IS) ۔ اصولِ قانون کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے اسکول کسی قابلِ قبول نتیجہ تک پہنچنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ علمائے قانون جب قانون کی تشریح ثانی الذکر اصول کی روشنی میں کرتے ہیں تو انھیں اس تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ قانون کا منطقی جو انزان کے ہاتھ سے نکل گیا اور جب اول الذکر اصول کی روشنی میں قانون کو سمجھنا چاہتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی کسی چیز کی دریافت ممکن ہی نہیں۔

ایک طرف وہ علمائے قانون ہیں جو قانون کو محض اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ انسانی سماج کا ایک خارجی ڈھانچہ ہے، اس لئے اس کو معلوم قواعد وضوابط کی روشنی میں ٹھیک اسی طرح بنایا جاسکتا ہے جیسے عجائب خانہ میں جانوروں کے لئے کٹہرابنایا جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر کی ایک وکالت جان آسٹن (۱۸۵۹ - ۱۷۹۰) کا مشہور نظریہ تھا جس میں اس نے کہا:

LAW IS WHAT IS IMPOSED BY A SUPERIOR ON AN INFERIOR, BE THAT SUPERIOR THE KING OR THE LEGISLATURE. یعنی قانون ان احکام کا نام ہے جو سیاسی طور پر اعلیٰ ہستی کی طرف سے سیاسی طور پر ادنیٰ ہستی کے اوپر نافذ کیا گیا ہو۔ یہ اعلیٰ ہستی خواہ بادشاہ ہو یا مقننہ۔

جان آسٹن (JOHN AUSTIN) کا یہ نظریہ بظاہر ایک قابلِ عمل نظریہ ہونے کے باوجود منطقی صحت سے مکمل

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page