Al-Risala · May 1978 · page 39

OUR GOVERNMENT HAS THE POWER BUT NOT THE RIGHT.

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۹

طور پر محروم ہے۔ کیونکہ یہ قانون ساز کو یہ مقام دے دیتا ہے کہ اس کا عمل انصاف کے معیاروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔ حالاں کہ انسانی عقل کبھی اس کو قبول نہیں کر سکتی کہ انصاف (JUSTICE) کے تصور کو قانون سے الگ کر دیا جائے۔ قانون جب کسی کے اوپر ایک فیصلے کا نفاذ کرتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ اسی وقت جائز فیصلہ ہے جب کہ وہ انصاف پر مبنی ہو۔

تاہم آج تمام دنیا میں، عملی طور پر، جان آسٹن ہی کے نظریہ کی حکمرانی ہے۔ نام نہاد آزاد دنیا میں یہ کام بغیر کسی اصولِ قانون کے ہو رہا ہے۔ ایک فرانسیسی قانون داں نے جو بات اپنی حکومت کے بارے میں کہی ہے‘ وہی دوسری تمام حکومتوں پر بھی صادق آتی ہے:

OUR GOVERNMENT HAS THE POWER BUT NOT THE RIGHT.

ہماری حکومت کے پاس قانون کے نفاذ کے لئے طاقت ہے مگر اس کا اسے کوئی حق نہیں۔

اشتراکی دنیا میں یہ جبری منطق اس سودیت اصول قانون کے تحت نافذ ہے کہ اشتراکی یا سماجی تعلقات (SOCIAL RELATIONSHIPS) ہی کا دوسرا نام قانون ہے۔ اشتراکی دنیا میں چونکہ علمی تحقیق بھی سیاست ہی کا ایک حصہ ہے، اس لئے باہر کی دنیا کے مفکرین کی اِس تنقید کا اُس پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ قانون کی پرسُکت تفسیر قانون کے معیاری کردار (NORMATIVE CHARACTER) کا انکار کر رہی ہے اور قانون کو گھٹا کر صرف اقتصادی قانون بنا دیتی ہے (IT REDUCES LAW TO ECONOMIC LAW)

اگر چہ عملی طور پر ساری دنیا میں یہی صورت حال ہے کہ سیاسی طاقت کے زور پر قوانین بنتے ہیں اور رائج کئے جاتے ہیں۔ مگر علمائے قانون کا ایک طبقہ اس سے بے نیاز ہو کر اصول قانون کی علمی تلاش میں مصروف ہے۔ تاہم اس کی اب تک کی تلاش نے اُس کو صرف اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ اصول قانون کے معاملہ میں کسی متفقہ معیار تک پہنچنا ممکن نہیں، کیونکہ اس تلاش کا مقصد قانونی معیارات (LEGAL NORMS) کا تعین ہے، اور قانونی معیارات کا تعین اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ بنیادی انسانی اقدار کا تعین ہو جائے۔ اور تمام علماء کا فیصلہ ہے کہ اقدار (VALUES) کی دریافت خالص عقلی طریقوں سے ممکن نہیں۔

اصول قانون کا مقصد قانون کی فلسفیانہ بنیاد (فلاسیفیکل فاؤنڈیشن ) یا اس کی قانونی قدر (لیگل ٹیلو) تلاش کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اصول قانون کا کام یہ ہے کہ وہ قانون کے لئے وجہ جواز (JUSTIFICATION) فراہم کرے۔ جب تک کوئی قانون اپنی پشت پر قابلِ قبول اصولِ قانون نہ رکھتا ہو، عقلاً جائز نہیں کہ وہ ان انسانوں کے اوپر نافذ کیا جائے جن کے لئے کسی چیز کی قدر و قیمت جاننے کا واحد معیار عقل ہے۔ چنانچہ معلوم تاریخ کے مطابق انسان ڈھائی ہزار سال سے اس تلاش و جستجو میں مصروف ہے، مگر بے شمار دماغوں کی جدوجہد کے با وجود اب تک وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔

قانون کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب انسان لکھنا نہیں جانتا تھا، اس وقت بھی قانون کسی نہ کسی شکل میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page