Al-Risala · May 1978 · page 30

LAW IN QUEST OF ITSELF

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰

موجود تھا۔ تحریر کی وریافت کے بعد اس کو لکھا بھی جانے لگا۔ سب سے قدیم تحریری قانون جو مل سکا ہے، وہ سمیری بادشاہ حمورابی کا قانون ہے جو ۱۹۰۰ ق م میں وضع ہوا تھا۔ سمیری قوم دجلہ و فرات کی وادی میں رہتی تھی۔

اصول قانون پر غور وفکر کا کام، تاریخی ریکارڈ کے مطابق، یونانی فلاسفہ سے شروع ہوا۔ سولن جو قدیم یونان کا مشہور قانون داں تھا، اس کا زمانہ مسیح سے چھ سو سال قبل کا ہے۔ افلاطون (۴۷۳ - ۳۴۷ ق م) کی کتاب قانون پر قدیم زمانہ کی مشہور ترین کتاب ہے۔ قانونی پیشہ بھی سب سے پہلے روم میں مسیح سے تقریباً پانچ سو سال قبل شروع ہوا۔ پندرھویں صدی تک قانون علم الہیات ہی کا ایک جز سمجھا جاتا تھا۔ سولھویں صدی میں وہ نیا ذہن پیدا ہوا جس نے بالآخر قانون کو مذہب سے الگ کر دیا۔ تاہم اب بھی وہ علم سیاست کا ایک جزو بنارہا۔ انیسویں صدی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے فلسفہ قانون کو فلسفه سیاست سے الگ کیا اور اصول قانون کو ایک مستقل علم کی حیثیت سے ترقی دے کر اس کو اختصاصی مطالعہ کا موضوع بنا دیا۔ قدیم زمانہ کے فلاسفہ کچھ مسلمات سے اپنا اصول قانون اخذ کرتے تھے جن کو وہ فطری حقوق کہتے تھے۔ سولھویں محمدی کے بعد یورپ میں جو ذہنی انقلاب آیا، اس نے ثابت کیا کہ مسلماتِ حقیقتہ مفروضات ہیں جن کے لئے کوئی عقلی دلیل موجود نہیں۔ اس کے بعد فرد کی آزادی سب سے بڑا مسئلہ قرار پائی جس کو اصول قانون کی بنیاد بنایا جا سکتا تھا۔ مگر صنعتی انقلاب کے نتائج نے بتایا کہ فرد کی آزادی کو اگر خیر اعلیٰ (SUMMUM BONUM) مان لیا جائے تو وہ انسانیت کو استحصال اور انارکی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتی۔ اب اجتماعی بھلائی (SOCIAL GOOD) کو سب سے بڑا خیر قرار دیا گیا جو قانون سازی کے لئے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر جب اس نظریہ کے پہلے ہی استعمال سے ایک ہولناک سیاسی حیرو وجود میں آیا تو معلوم ہوا کہ فرد کی آزادی اگر سماج کے لئے نقصان دہ تھی تو سماجی بھلائی کا یہ نظریہ فرد کو مجبور و مقہور بنا کر رکھ دیتا ہے۔ بیسویں صدی فرد اور سماج کے درمیان مطابقت تلاش کرنے کی صدی ہے۔ موجودہ صدی کے نصف ثانی میں جن مدارس فکر کو قبولیت حاصل ہوئی، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی طور پر قانون کی ایسی بنیاد ڈھونڈ رہے تھے جہاں فردا در سماج کے مختلف تقاضوں کو ہم آہنگ کیا جاسکے۔ مگر یہ تجربہ بھی ناکامی کے سوا کہیں اور پہنچتا ہوا نظر نہیں آتا۔ آج بھی ایسی کتابیں شائع ہو رہی ہیں جن کا ٹائٹل اس قسم کا ہوتا ہے:

LAW IN QUEST OF ITSELF

قانون خود اپنی تلاش میں، حتیٰ کہ علمائے قانون کے ایک طبقہ نے اپنا یہ آخری فیصلہ دے دیا ہے کہ ایسی کسی کوشش کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں:

A PURELY LOGICAL INTERPRETATION OF LEGAL RULES IS IMPOSSIBLE قانونی احکام کی خالص منطقی تعبیر نا ممکن ہے۔ گشا اور ٹیڈبرش (۱۹۴۹ - کا کہنا ہے کہ مطلوبہ قانون

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page