LAW IN QUEST OF ITSELF
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱
Scientifically Known صرف بذریعہ اقرار (CONFESSION) اپنایا جا سکتا ہے نہ اس لئے کہ وہ علمی طور پر معلوم ہے ۔ ریڈ برش (GUSTAV RADBRUCH) کی مثال کوئی انفرادی مثال نہیں، بلکہ اسی بنیاد پر ایک مستقل مدرسہ فکر وجود میں آیا ہے جس کو اضافی مدرسہ فکر کہتے ہیں ۔ اس فکر کے حامین (RELATIVISTS) کا کہنا ہے : ABSOLUTE JUDGMENTS ABOUT LAW ARE NOT DISCOVERABLE مطلق قانون قابلِ دریافت نہیں ۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، اصولِ قانون کی اصل مشکل یہ ہے کہ وہ جس چیز کی تلاش میں ہے، اس کا براہِ راست تعلق مسئلہ اقدار سے ہے اور یہ مسئلہ وہ ہے جہاں انسانی عقل اپنی ساری کوشش کے باوجود کسی متفقہ جواب تک پہنچنے میں قطعا نا کام رہی ہے۔ ایک طرف یہ صورت ہے کہ انسان،وجدانی طور پر، خیر و شر کا اتنا شدید احساس رکھتا ہے کہ اس کو نہ تو اٹھارویں صدی کے میکانکی فلسفے ختم کر سکے اور نہ سوویت روس کا کلیت پسندانہ نظام، جس کو نصف صدی سے بھی زیاوہ طویل عرصہ تک یہ موقع ملا کہ وہ نسلِ انسانی کو اپنے نظریاتی کارخانہ میں ڈھال سکے۔ دوسری طرف یہ مشکل کہ بہترین دماغوں کی ساری کوشش بھی اقدار کا کوئی متفقہ معیار تلاش کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہا ہے۔ سائنس کی ترقی اس کو زیادہ سے زیادہ واضح کرتی جا رہی ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں اقدار اپنا کوئی معروضی مقام (OBJECTIVE STATUS) نہیں رکھتیں۔ ۔
جوزف وڈ کرچ (۱۸۹۳-۱۹۷۰) نے اپنی کثیرالاشاعت کتاب (THE MODERN TEMPER) میں اس کا مطالعہ کیا ہے ۔ ” خواہ انسان کتنی ہی کوشش کرے پروفیسر کرچ (JOSEPH WOODKRUTCH) لکھتے ہیں “ ابی کی روح کے دو نصف مشکل ہی سے باہم متحد ہو سکتے ہیں ۔ اور وہ نہیں جانتا کہ وہ اس طرح خیال کرے جیسے کہ اس کی عقل بتاتی ہے کہ اسے خیال کرنا چاہئے، یا وہ اس طرح محسوس کرے جیسے اس کے جذبات اس کو محسوس کراتے ہیں ۔ اور اس طرح دہ اپنی برباد اور تقسیم شدہ روح کے اندر ایک مضحکہ بن کر رہ گیا ہے“ کرچ کا یہ جملہ اکثر نقل کیا گیا ہے:
MAN IS AN ETHICAL ANIMAL IN AN UNIVERSE WHICH CONTAINS NO ETHICAL ELEMENT. (16)
انسان ایک اخلاقی جانور ہے ایک کائنات میں جو اپنے اندر کوئی اخلاقی عنصر نہیں رکھتی ۔ کرچ کی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنے دائرہ سے باہر قدم رکھ دیا ہے۔ میں جس بنیادی نکتہ پر زور دینا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ جو چیز ثابت ہوئی ہے، وہ یہ نہیں کہ اقدار کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہ انسان ان کو دریافت نہیں کر سکتا ۔ یہاں میں ڈاکٹر الکسس کیرل (۱۹۷۳ - ۱۸۷۳) کا حوالہ دوں گا ۔ ڈاکٹر کیرل (ALEXIS CARREL) نے اپنی کتاب انسان نامعلوم (MAN THE UNKNOWN) میں دکھایا ہے کہ اقدار کا مسئلہ اتنے مختلف النوع علوم کی کامل واقفیت سے تعلق رکھتا ہے جن کو انسان اپنی محدود عمر میں کسی طرح حاصل