Al-Risala · January 1978 · page 44

PROBLEMS AND PROMISES

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴

تیار کرنے کا کارخانہ بنایا جائے تو اس کی لاگت تقریباً ۱۵ ہزار آئے گی۔ اور اس کے ذریعہ جو سیمنٹ تیار ہوگی وہ عام سممنٹ سے بہت زیادہ سستی ہوگی۔

یہ معاملہ صرف بھوسی اور گٹھلی جیسی چیزوں تک محدود نہیں ہے۔ جانوروں کا گوبر اور انسان کا فضلہ بھی بے شمار فوائد اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ گو بر فضلہ کو، بغیر کسی خرچ کے، اتنی گیس پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے گھر کا پورا کھانا پک جائے اور رات کے وقت گھر کی روشنی بھی حاصل ہو سکے۔ ایندھن کے خرچ اور دھوئیں کی کثافت سے بچنے کا یہ نہایت کامیاب ذریعہ ہے۔ اس طریقہ میں مزید فائدہ یہ ہے کہ گوبر یا فضلہ کی اصل کھاد ضائع نہیں ہوتی، بلکہ پوری کی پوری محفوظ رہتی ہے۔ فضلہ کا گیسی حصہ، جو نباتات کے لئے مضر ہے، گھر کے ایندھن اور روشنی میں کام آجاتا ہے اور اس کے بعد عمدہ کھاد خود بخود الگ ہو جاتی ہے۔ کم خرچ، زیادہ فائدہ کا اس سے بہتر کوئی نسخہ نہیں ہو سکتا۔ حال میں ایک انجینئرنگ کمپنی نے ایک انجن تیار کیا ہے جو KIRLOSKAR OIL ENGINES LIMITED 13, LAXMANRAO KIRLOSKAR ROAD KHADKI, PUNE 411 003 گوبر گیس سے چلتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ۲۰ مویشیوں کا گلہ ہے تو آپ ایک گوبر گیس پلانٹ تیار کر سکتے ہیں اس کی تیاری میں تقریباً چھ ہزار روپے کا خرچ آتا ہے جس کا ایک حصہ سرکار بطور سب سڈی دیتی ہے۔ اپنے گوبر گیس پلانٹ کے ساتھ پانچ ہارس پاور کا انجن لگا کر آپ اپنے کھیتوں اور باغوں کی آب پاشی کر سکتے ہیں جو بجلی یا تیل کے انجن کے مقابلہ میں ۸۰ فی صد تک اخراجات کو کم کر دیتا ہے۔

اس طرح کے بے شمار امکانات ہیں جو اس وسیع ملک میں ہمارا انتظار کر رہے ہیں، پچھلے ۳۰ برسوں میں جتنا سرمایہ فیملی پلاننگ اور اس سے متعلق پروگراموں میں خرچ کیا گیا ہے، اگر وہ اس طرح کی اسکیموں میں لگایا گیا ہوتا تو ملک کی حالت آج کہیں زیادہ بہتر ہوتی۔ مولانا عبدالماجد دریا آبادی (۷۷-۱۹۵۲ء) مولانا محمد علی (۱۹۳۱-۱۸۷۸ء) کے بارہ میں فرماتے ہیں: "میرے دوست مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت بھی میرے لئے مشعل راہ ثابت ہوئی ۔ بیتاب ہو کر تڑپ کر جوش وخروش سے للکارتے تھے "عبد الماجد اٹھو، چل کر ملحد یورپ میں تبلیغ اسلام کریں" صدق جدید (لکھنو) ۲ جون ۱۹۷۷ء ڈاکٹر محمد اقبال (۱۹۳۸-۱۸۷۷ء) نے آخر عمر میں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ جس کا نام انھوں نے تجویز کیا تھا: AN INTRODUCTION TO THE STUDY OF QURAN (مطالعہ قرآن کا ایک تعارف) ۔ فرماتے تھے " ایک بار کتاب شروع کی تو ان شاء اللہ اسلام کے بارے میں یورپ کے تمام نظریات توڑ پھوڑ کر رکھ دوں گا ۔ شیرازہ دوسری نمبر اقبال نمبر، صفحہ 66 اس طرح کے پرجوش ارادہ کی مثالیں ہمارے یہاں بہت سی ملیں گی۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی قابل ذکر شخص نہیں ملتا جس نے مغرب کے انسانوں کے سامنے ان کی زبان میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہو۔ اگر کی ہے تو صرف بدنام قادیانیوں نے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page