LAW IN QUEST OF ITSELF
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲
نہیں کر سکتا۔ ان کو حاصل کر کے ان کا تجزیہ کرنا اور نتیجہ نکالنا تو درکنار۔ انھوں نے مزید اس بات کو رد کر دیا ہے کہ ماہرین کی ایک کمیٹی اس مسئلہ کی تحقیق کر کے کسی آخری نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کرے، کیونکہ ایک اعلیٰ آرٹ کی تخلیق ایک ذہن کرتا ہے، اعلیٰ آرٹ کسی اکیڈمی کے ذریعہ کبھی وجود میں نہیں آتا۔ “ سگمنڈ فرائڈ (1939- 1856) کے وقت سے اب تک نفسیات کے جو مختلف اسکول وجود میں آئے ہیں، وہ باہمی اختلافات کے باوجود اس مشترکہ کوشش میں مصروف رہے ہیں کہ نفسیات کا کوئی اقدار سے آزاد علم (VALUE FREE SCIENCE) وجود میں لائیں۔ مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ ایک صدی کی مسلسل کوششوں کے باوجود وہ اس منزل تک پہنچنے میں بالکل ناکام رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب ان کے درمیان اس کے خلاف ردِ العمل شروع ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کا ممتاز ماہرِ نفسیات ابرہام میسلو (۱۹۰۸ - ۱۹۷۰) جو خود ثبوتی کردارِیت (POSITIVISTIC-BEHAVIOURISTIC TRADITION) کے زیرِ سایہ تیار ہوا تھا، اپنی عمر کے آخری حصہ میں وہ انسانی فطرت کے دور تر گوشے (FARTHER REACHES OF HUMAN NATURE) کی تلاش میں مصروف ہو گیا۔ میسلو (ABRAHAM MASLOW) کا کہنا ہے :
PSYCHOLOGY HAD VOLUNTARILY RESTRICTED ITSELF TO ONLY HALF OF ITS RIGHTFUL JURISDICTION. نفسیات نے اپنے جائز حدودِ کار کے نصف حصہ سے بطور خود اپنے آپ کو روک لیا۔ الہی قانون وضعی قانون کی ناکامی کے بارے میں اوپر میں نے جو اشارات کئے، وہ ہر وہ شخص جانتا ہے جس نے اصولِ قانون کا مطالعہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون کا یہ مفروضہ قطعی طور پر بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے کہ انسان خود اپنے لئے قانونی معیار دریافت کر سکتا ہے۔
اس کے بعد ہمارے سامنے دوسرا مفروضہ آتا ہے اور وہ الہی قانون کا مفروضہ ہے۔ الہی قانون، جس کا محفوظ اور مستند متن قرآن کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ قانون کا ماخذ خدا کا الہام ہے یعنی یہ کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ خدا نے الہام کے ذریعہ اپنا قانون اپنے رسول پر اتارا ہے یہی قانون انسان کے لئے صحیح ترین دستورِ عمل ہے۔ اس قانون کی بنیاد پر قیاس اور اجتہاد کر کے مزید قانون سازی ہو سکتی ہے۔ مگر اصولی طور پر اس سے انحراف جائز نہیں ۔
میں پیشگی طور پر اعتراف کرتا ہوں کہ خالص علمی اعتبار سے یہ ایک پیچیدہ دعویٰ ہے۔ مگر جو نکتہ خصوصی طور پر قابلِ لحاظ ہے، وہ یہ کہ اس کی پیچیدگی کے اسباب خود قانون میں ہونا ضروری نہیں۔ وہ اس واقعہ میں بھی ہو سکتے ہیں کہ ہماری عقل کچھ محدودرتوں (LIMITATIONS) کا شکار ہے اور اس بنا پر وہ سارے حقائق کا براہِ راست