Al-Risala · May 1978 · page 43

LAW IN QUEST OF ITSELF

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳

احاطہ نہیں کر سکتی۔ خوش قسمتی سے جدید سائنس کا موقف اس معاملہ میں ہماری تائید کرتا ہے۔ جدید سائنس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ حقائق کی مقدار صرف اتنی ہی نہیں جو براہ راست ہمارے حسیاتی تجربہ میں آتی ہیں ۔ بلکہ اس سے آگے اور بھی حقائق ہیں۔ مزید یہ کہ نامعلوم حقائق نہ صرف معلوم حقائق سے مقدار میں زیادہ ہیں بلکہ وہ معلوم حقائق کے مقابلہ میں زیادہ اہم اور معنی خیز ہیں۔ امریکی پروفیسر فرڈ برتھولڈ(FRED (FRED BERTHOLD) نے منطقی ثبوتیت (LOGICAL POSITIVISM) کے فلسفہ کو چند لفظوں میں اس طرح سمیٹا ہے:

THE IMPORTANT IS UNKNOWABLE, AND THE KNOWABLE IS UNIMPORTANT جو چیز اہم ہے وہ نا قابل دریافت ہے اور جو چیز قابل دریافت ہے ، وہ اہم نہیں۔

۱۹ ویں صدی میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ انسان کل حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر چہ اس وقت بھی کل حقیقت عملاً انسان کی دسترس سے اتنی ہی دور تھی جتنی اس سے پہلے یا اس کے بعد رہی ہے۔ تاہم یہ یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن انسان ضرور اسے دریافت کرلے گا۔ مگر بیسویں صدی کے سائنسداں خود ثبوتیت (POSITIVISM) یا فعلیت (OPERATIONALISM) کے جھنڈے کے نیچے ہم کو بتا رہے ہیں کہ یہ فرض کر لینا بالکل غلط تھا کہ سائنس ہم کو آخری حقیقت (ULTIMATE REALITY) یا خیر (GOOD) کے بارے میں کوئی بات بتا سکتی ہے۔ وقت کا دوسرا فلسفہ جس کو وجودیت (EXISTENTIALISM) کہا جاتا ہے، وہ بھی ہم کو یقین دلا رہا ہے کہ اس کی کوئی صورت نہیں کہ محدود انسان خیر کا ایسا معیار (NORM) دریافت کرسکے جو اس سے ماورا ہو۔ ان دریافتوں کے بعد انسانی علم اب جس مسئلہ پر پہنچا ہے ، وہ یہ کہ قطعی دلائل صرف اس میدان تحقیق میں قائم کئے جا سکتے ہیں جن کو برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰ء - ۱۸۷۲ء) نے چیزوں کا علم (KNOWLEDGE OF THINGS) THINGS)کہا ہے۔ دوسرا میدان تحقیق جو اس کے الفاظ میں صداقتوں کا علم (KNOWLEDGE OF TRUTHS) سے تعلق رکھتا ہے ، ان میں براہ راست دلیل قائم کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ مان لیا گیا ہے کہ ہم کسی معاملہ میں قطعیت (CERTAINTY) تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اغلب رائے (PROBABLE JUDGMENT) تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ یہ بات صرف غیر مادی حقائق تک محدود نہیں ہے بلکہ بہت سی وہ چیزیں جن کو مادی حقائق میں شمار کیا جاتا ہے، ان کا معاملہ بھی تقریباً ایسا ہی ہے، جیسے روشنی، یا مقناطیسی قوت کی تشریح۔

میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ فیصلہ کی یہ بنیاد جو جدید علم نے فراہم کی ہے ، وہ عین الہی قانون کے حق میں ہے۔

الہی قانون کا یہ مفروضہ کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، غالباً جدید انسان کے لئے اتنا زیادہ ناقابل فہم نہیں جتنا اس کا یہ جزو کہ خدا بذریعہ الہام اپنی مرضی انسان کے پاس بھیجتا ہے۔ اکثر بڑے بڑے سائنس داں کسی نہ کسی شکل میں خدا کو مانتے تھے نیوٹن (۱۷۲۷ء - ۱۶۴۲ء) کے نزدیک نظام شمسی کو متحرک کرنے کے لئے ایک خدائی ہاتھ (DIVINE ARM) کی ضرورت تھی۔ ڈارون (۱۸۸۲ء - ۱۸۰۹ء) آغاز حیات کے لئے ایک خالق (CREATOR )

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page