THE STUFF OF THE WORLD IS MIND-STUFF
الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴
کو ضروری سمجھتا تھا۔ آئن سٹائن (1955-1879) کو ایک بر تر ذہن (SUPERIOR MIND) کی جھلک دکھائی دی جو کائنات کے مظاہر میں اپنے کو ظاہر کر رہا تھا۔ سر جیمس جینس کے مطالعے نے اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ کائنات "گریٹ مشین" سے زیادہ "گریٹ تھاٹ" معلوم ہوتی ہے، سر آرتھر ایڈنگٹن کے نزدیک جدید سائنس میں اس حقیقت تک پہنچاری ہے کہ:
THE STUFF OF THE WORLD IS MIND-STUFF
کائنات کا مادہ ایک شے ذہنی ہے۔ ایڈز نار تہ ڈائٹ ہڈ (1941-1834) کے نزدیک جدید سائنسی معلومات یہ ثابت کر رہی ہیں کہ فطرت ایک زندہ حقیقت ہے نہ کہ بے روح مادہ (NATURE IS ALIVE) تاہم جہاں تک الہام کا تعلق ہے، مجھے اعتراف ہے کہ خالص علمی اعتبار سے یہ ایک نہایت پیچیدہ عقیدہ ہے۔ یہ ان چیزوں میں سے نہیں جس کا عمومی مشاہدہ کرایا جا سکتا ہو۔ مگر یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں کہ ہمارے تجربہ میں ایسے بہت سے حقائق آتے ہیں جن سے استنباط کیا جا سکتا ہے کہ یہاں ایسی کوئی حقیقت پائی جاتی ہے جس کو الہام سے تعبیر کیا جاسکے۔ جدید میتھڈ الوجی اس کو تسلیم کرتی ہے کہ مستنبط حقائق (INFERED FACTS) بھی اتنے ہی یقینی ہو سکتے ہیں جتنے کہ مشہور حقائق (OBSERVED FACTS)۔ اس لئے ہمارے استدلال کی اہمیت اس سے کم نہیں ہوتی کہ وہ مشاہداتی نہیں ہیں بلکہ استنباطی نوعیت کے ہیں۔
19 ویں صدی میں قانونِ تعلیل (PRINCIPLE OF CAUATION) کو خالق کا بدل سمجھ لیا گیا تھا۔ مگر موجودہ صدی میں ایسے بہت سے واقعات سائنس کے علم میں آئے ہیں جن کی توجیہہ اسباب مادی کے عام اصول کے تحت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ریڈیم کے الیکٹران کا ٹوٹنا، جن کو معلوم قوانین کے تحت بیان کرنے کی ساری کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ حتیٰ کہ ایک سائنس داں کو کہنا پڑا کہ ریڈیم کے کسی ٹکڑے میں کون سا الیکٹران کس وقت ٹوٹے گا، اس کا فیصلہ کرنا خداؤں کے اختیار میں ہے، خواہ وہ جو بھی ہوں:
IT MAY REST ON THE KNEES OF WHATEVER GOODS THERE BE حیوانات کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے۔ حیوانات کے بارے میں ثابت ہو چکا ہے کہ ان کے اندر جو حیلت (INSTINCT) ہوتی ہے، وہ اکتسابی نہیں۔ مثلاً شہد کی مکھی اپنے چھتہ کو ہشت پہل بناتی ہے۔ کسی تربیت نے اس کو نہیں بتایا کہ ہشت پہل خانہ کے مقصد کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہے، حتیٰ کہ وہ اس کی معنویت کا کا بھی کوئی ذاتی شعور نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود وہ اس ریاضیاتی طریق تعمیر میں اس طرح مصروف رہتی ہے جیسے اس سے کسی نے کہہ دیا ہو کہ تم ایسا ہی کرو۔ (وَأَوحي رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ، نحل - 68) اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو ہمیں اس اغلبیت کی طرف لے جاتے ہیں کہ اشیاء سے باہر کوئی شعور ہے جو اشیاء کو ان کے وظیفہ حیات کے بارے میں ہدایات دے رہا ہے۔ حتیٰ کہ سر آرتھر ایڈنگٹن نے جدید کوانٹم نظریہ کو الہام کی سائنسی تصدیق قرار دیا ہے۔ قرآن کا یہ بیان بیسویں صدی کے انسان کے لئے شاید اس سے زیادہ۔