Al-Risala · May 1978 · page 45

THE STUFF OF THE WORLD IS MIND-STUFF

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۵

قابلِ فہم ہے جتنا وہ ساتویں صدی کے انسان کے لئے ہو سکتا تھا:

وَ اَوْحٰى فِی کُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا (خمہ سجدہ ۱۲) اور خدا نے ہر آسمان میں اس کا حکم اتارا اس کے بعد جب ہم انسان کے مسئلہ پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جس کو حیاتیاتی حصہ کہہ سکتے ہیں۔ دوسرا وہ جس کو نفسیاتی حصہ کہا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کا حیاتیاتی حصہ ٹھیک اسی طرح مکمل طور پر خارجی قوانین کا پابند ہے جس طرح کائنات کی دوسری چیزیں اس کی پیروی کر رہی ہیں۔ وہ چیز جس کو میڈیکل سائنس کہا جاتا ہے، اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ان مخفی قوانین فطرت کا پتہ لگائے جس کے تحت انسانی زندگی کا حیاتیاتی حصہ کام کرتا ہے اور اس کو اس حصہ انسانی پر استعمال کرے ۔ اب اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ قانون فطرت جو ستاروں اور سیاروں سے لے کر انسان کے حیاتیاتی حصہ تک کارفرما ہے، اس کا ماخذ وہ الہام ہے جو کائناتی شعور کی طرف سے ہر ایک کو پہنچ رہا ہے تو اس کے بعد، اسی پر قیاس کرتے ہوئے، یہ ماننا خود بخود آسان ہو جاتا ہے کہ انسان کے نفسیاتی حصہ کے لئے قانون کا تعین بھی اسی شعور کی طرف سے ہو سکتا ہے اور اسی کی طرف سے ہونا چاہئے ۔

خالص عقلی نقطہ نظر سے کہا جا سکتا ہے کہ اس استدلال کی بنیاد ایک ”قیاس“ پر قائم ہے۔ مگر یہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کی ساخت کچھ اس ڈھنگ پر ہوئی ہے کہ قیاسی استدلال سے مفر اس کے لئے ممکن نہیں۔ اگر وہ قیاسی استدلال کو تسلیم کرنے سے انکار کرے تو لازماً اس کو تشکیک کی پناہ گاہ میں جانا پڑیگا۔ جو عملی طور پر ناممکن ہے ۔

قرآن نے بھی اس معاملہ میں جواب کا یہی انداز اختیار کیا ہے:

يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوحِ، قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّي تم سے وحی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وحی وَّ مَا اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا خدا کے حکم سے ہے اور تم کو صرف تھوڑ اعلم دیا گیا ہے یہاں وحی سے متعلق سوال کے جواب میں دو باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ امر رب ہے۔ دوسرے یہ کہ تم کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ وحی اسی طرح انسان کے لئے امر رب ہے جس طرح سارا نظام عالم امر رب (قانون فطرت) کے ماتحت ہے۔ یہ کوئی منفرد چیز نہیں بلکہ انسانی دائرہ میں وحی چیز ہے جس کا مشاہدہ تم کائنات کے دائرہ میں کر رہے ہو۔ دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ وہی کو عقلی طور پر سمجھنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ تم اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرو کہ انسان کو علم قلیل دیا گیا ہے۔ اس کو علم کثیر نہیں دیا گیا۔ اس واقعہ کو مان کر چلو گے تو وہی کی حقیقت سمجھ جاؤ گے اور اگر اس واقعہ کا انکار کر کے سمجھنا چاہو تو تم اس کو نہیں سمجھ سکتے۔

حیرت انگیز بات ہے کہ تیرہ سو برس پہلے کا اعلان آج سائنس کے جدید ترین مرحلہ میں اپنی صداقت کو مزید شدت کے ساتھ ثابت کر رہا ہے۔ پہلی جنگ عظیم (۱۸۔ ۱۹۱۳) کے ساتھ جس نئے دور سائنس کا آغاز ہوا ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page