Al-Risala · May 1978 · page 46

THE STUFF OF THE WORLD IS MIND-STUFF

الرسالہ، مئی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۶

اس نے قطعیت کے ساتھ تسلیم کر لیا ہے کہ انسان بعض حیاتیاتی اور نفسیاتی محدودیتوں کا شکار ہے، اس لئے وہ سارے حقائق کو اپنے محسوسات کی گرفت میں نہیں لاسکتا۔ ضروری ہے کہ اپنے قلت علم کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے وہ مروجہ سائنسی طریقوں پر بعض ایسے طریقوں کا اضافہ کرے جو انیسویں صدی تک غیر سائنسی سمجھے جاتے تھے۔ آئن سٹائن نے کائنات کے بارے میں جو انقلاب انگیز سائنسی نظریات وضع کئے، اس کے سلسلے میں اس نے اعتراف کیا کہ یہ کام اس طریقہ کی پابندی کر کے نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر، حرکیات گیس کا نظریہ (SYNTHETIC METHOD) میں کار آمد ہے۔ یہاں اس نے ترکیبی طریقہ (KINETIC THEORY OF GASES) کے بجائے تحلیلی طریقہ (ANALYTICAL METHOD) سے کام لیا۔ اس نے سائنسی نظریات کی دو تقسمیں کیں۔ ایک عمارتی نظریات (CONSTRUCTIVE THEORIES) دوسرے اصولی نظریات (PRINCIFLE-THEORIES) اس نے کہا کہ نظریہ اضافیت (RELATIVITY) کو سمجھنے کے لئے صرف دوسرے قسم کا نظریہ ہی کام دے سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس نے کائنات کے گہرے حقائق کو سمجھنے کے لئے سائنسی مشاہدہ کے بجائے ایک قسم کے سائنسی تصور (SCIENTIFIC CONTEMPLATION) کی وکالت کی۔ چنانچہ ایک پروفیسر نے آئن سٹائن کے نظریہ کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

IN DEALING WITH THE ETERNAL VERITIES, THE AREA OF EX- PERIMENT IS REDUCED AND THAT OF CONTEMPLATION ENHANCED. ابدی حقیقتوں کی بحث میں تجربہ کا دائرہ گھٹ جاتا ہے اور تصور کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک الہامی قانون ہے جو انسان کی رہنمائی کے لئے اتارا گیا ہے۔ یہ بات کہ وہ فی الواقع ایک الہامی قانون ہے، اس کے لئے خود قرآن نے بڑی عجیب دلیل دی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ انسان کبھی بھی اس کے جیسی کتاب نہ بنا سکے گا، خواہ وہ اس کے لئے کتنی ہی کوشش کر ڈالے: وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ اور اگر تم اس کتاب کے بارے میں شک میں ہو جو مِّنْ مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے تو اس جیسی ایک كُنْتُمْ صَادِقِينَ بقرہ - ۲۳ صورت بنا کر لے آؤ قُلْ لَّيْنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا کہہ دو اگر آدمی اور جن اس لئے جمع ہوں کہ ایسا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ قرآن بنا لائیں تو وہ ہرگز نہ لاسکیں گے خواہ وہ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا بنی اسرائیل - ۸۸ سب ایک دوسرے کے مددگار ہوں انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی کے مقالہ نگار کے الفاظ میں، فلسفیانہ اعتبار سے جو بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ کیا معیار ہے جس پر الہام کے دعوے کو جانچا جاسکے:

THE MAIN PHILOSOPHICAL QUESTION THAT ARISES CONCERNS THE CRITERIA BY WHICH REVELATION CLAIMS MAY BE JUDGED.

‹ Previous page Next page › Contents of May 1978 All issues

Printed page