Al-Risala · January 1978 · page 25

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

بحر مردار (DEAD SEA) اردن اور اسرائیل کے درمیان واقع ہے۔ اس کا دوسرا نام بحر لوط ہے۔ چار ہزار برس پہلے یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔ چار بڑے بڑے شان دار شہر اس کے کنارے آباد تھے۔ جب یہاں کے لوگوں میں بگاڑ آگیا تو لوط بن حاران بن آزر کو خدا نے پیغمبر بنا کر ان کے پاس بھیجا۔ مگر ان کی سرکشی بڑھتی رہی۔ بالآخر جب حجت تمام ہو گئی تو ۲۰۶۱ ق م میں ایک ہولناک زلزلہ آیا۔ ان کی بستیاں الٹ گئیں۔ سمندر کا پانی ان کے اوپر چڑھ گیا۔ پورا علاقہ اس طرح برباد ہو گیا کہ اب وہاں چڑیاں اور مچھلیاں بھی نہیں پائی جاتیں ۔

یہی معاملہ تمام نبیوں کے منکرین و مخالفین کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اتمام حجت کے بعد کوئی قوم موجودہ دنیا میں بود و باش کے حق سے محروم ہو جاتی ہے۔ اس لئے فرشتوں یا خود اہل ایمان کے ذریعہ اس دنیا سے اس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کے مخالفین بھی ، آپ کا انکار کرنے اور آپ کو آپ کے وطن سے نکال دینے کے بعد ، اسی خدائی سزا کے مستحق ہو گئے تھے (اسرار ۷۔ ۲۷) چنانچہ انہیں بھی یہ سزا دی گئی۔ البتہ اس کی صورت بدلی ہوئی تھی۔ دیگر انبیاء کے ساتھیوں کی تعداد چونکہ بہت کم تھی، اس لئے ان کے مخالفین کو ہلاک کرنے کے لئے زلزلہ اور طوفان آئے (عنکبوت۔ ۳۱) مگر نبی آخرالزماں کے ساتھ حمایت کرنے والوں کی بھی معقول تعداد ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خود آپ کے ساتھیوں کی تلوار کو آپ کے مخالفین کی ہلاکت کے لئے استعمال کیا (قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ) بدر کی قتل گاہ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ٹھیک ویسی ہی تھی جیسا عاد و ثمود کے برباد شدہ مساکن۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تلوار ، پیغمبر اسلام کے مشن کا اضافی جز رھتی نہ کہ حقیقی جز ر۔ وہ شکلاً دفاعی جنگ اور حقیقۃً خدائی سزا کے طور پر ظاہر ہوئی ، جیسے پچھلی قوموں پر آنے والا عذاب شکلاً زلزلہ یا طوفان تھا اور حقیقۃً ایک منکر قوم پر خدا کی سزا۔ مگر بعد کے دور میں اسلام کی تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں ان میں، عام رواج کے اثر سے "تلوار" کے واقعات بہت زیادہ نمایاں ہو گئے۔ لوگوں کو اسلام کی تاریخ تلوار کی تاریخ نظر آنے لگی۔ حتیٰ کہ خود مسلمان بھی شمشیری کارنامے دکھانے کو سب سے بڑا جہاد سمجھنے لگے۔

بعد کے دور میں اسلام کے ساتھ جو المیے پیش آئے، ان میں یہ المیہ سرفہرست ہے کہ دین رحمت دین شمشیر بن گیا۔ اسلام جن مقاصد کے لئے آیا، ان میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ انسانوں کے درمیان جنگ و جدل کو ختم کر کے سمجھنے اور سمجھانے کے طریقے کو رائج کرے (ص - ۲۹) طاقت کی منطق کی جگہ عقل و فكر کی منطق کو اونچا مقام دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ، دورِ تلوار کا خاتمہ اور دورِ دعوت کا آغاز تھا۔ قرآن میں یہ حکم کہ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو (فرقان) گویا اس بات کا اعلان تھا کہ پیغمبر اسلام کی بعثت سے تاریخ انسانی میں ایک نیا دور شروع ہوتا ہے جب کہ نظریہ «شمشیر و سناں‘‘ کا بدل ہوگا۔ نظریاتی طاقت سے فتوحات حاصل ہوا کریں گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page