Al-Risala · June 1978 · page 2

ی دورے پ

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جبیر بن نفیر نے عوف بن مالک اشجعی کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہو تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر کی اور فرمایا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ علم اٹھایا جائے گا۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا جس کا نام زیاد بن لبید تھا، اے خدا کے رسول ! کیا علم ہم سے اٹھا لیا جائے گا۔ حالانکہ ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم کو مدی کا سمجھ دار آدمی جانتا تھا۔ یہود و نصاری کی کیا تورات و انجیل کو یں پڑھتے۔ پھر بھی ان کی توں پر ان کا عمل نہیں ہے جبیر بن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس سے ہوئی۔ انہوں نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ انھوں نے کہا عوف نے سچ کہا۔ پھر شداد نے کہا۔ جانتے ہوئے علم کا اٹھ جانا کیا ہے۔ انھوں نے کہا نہیں۔ شداد نے کہا، اس کے برتن کا چلا جانا (ذھاب اوعیہ) اس کے بعد شداد نے کہا:

ھل تدری ای العلم یرفع ، قال قلت لا ادری ۔ قال کیا تم جانتے ہو کون سا علم اٹھا لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا الخشوع حتی لا یری خاشعا نہیں ۔ فرمایا : با خشوع اٹھا لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ کوئی ابن عبدالبر، جامع بیان العلم و فضلہ ، جزء اول صفحہ ۱۵۳ خاشع نہ دکھائی نہ دے گا۔

جس گروہ کے پاس خدا کی کتاب ہو، اس پر جب دینی زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ دین داری کی صورتیں مٹ جاتی ہیں یا اس کا چہرہ جاتی نہیں رہتا۔ ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا نہ ان کا زوال در اصل یہ ہے کہ دین ان کے یہاں قساوت کی سطح پر باقی ہو ، خشوع کی سطح پر وہ ختم ہو جائے (حدید ۱۶) ۔ خشوع والی دین داری قلب میں اتری ہوئی ہوتی ہے۔ جب کہ قساوت والی دین داری صرف اعضاء و جوارح کو چھوتی ہے ، وہ شعور کا حصہ نہیں ہوتی ، وہ آدمی کے اندرونی وجود میں آگ نہیں لگاتی۔

حامل کتاب قوم میں یہ زوال اس وقت آتا ہے جب کہ خدا کے دین کو " فن " بنا دیا گیا ہو۔ فن نام ہے کسی حقیقت کو ناپ تول کی زبان میں متعین کرنے کا ۔ اب چوں کہ اندرونی حقیقت ناپ تول کی گرفت میں نہیں آتی ، وہ صرف بعض ظاہری پہلوؤں کو بیان کر سکتی ہے ، اس لئے جب کسی قوم کے اندر اس قسم کے فنون ترقی کرتے ہیں تو ظاہری بحثوں والے دین کے ماہرین توان کے یہاں خوب پیدا ہوتے ہیں ۔ مگر ایسے لوگ ناپید ہو جاتے ہیں جو کیفیت والے دین سے آشنا ہوں ۔ ۔ عبادت جو دل کی گھلاوٹ کا نام ہے ، فقہی ناپ تول کے ایک ظاہری عمل کا نام رہ جاتی ہے۔ روحانیت جو خدا اور آخرت کی سطح پر جینے کا نام ہے ، اس کے مقامات عملیاتی ورزشوں سے طے ہونے لگتے ہیں۔ دعوت دین جو دراصل بندوں کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار ہے ، وہ تقریر اور تحریر مناظرہ در احتجاج حتی کہ ٹریڈنگ اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کر لیتی ہے وغیرہ کتاب الہی کا کوئی حامل گروہ جب قساوت کی سطح پر آجائے تو اس کو دوبارہ خشوع کی سطح پر لانے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ دین کو انسانی آمیزشوں سے پاک کیا جائے حقیقی دین داری خدر رسول کے بتائے ہوئے دین سے آسکتی ہے نہ کہ انسانوں کے وضع کئے ہوئے دین سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page