تجدید دین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۳
تجدید دین
تجدید کے معنی ہیں نیا کرنا۔ تجدید دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کے اوپر جب گرد و غبار پڑ جائے تو اس کو صاف کرکے دوبارہ دین کو اس کے اصلی رنگ میں پیش کر دیا جائے۔
دین کے اوپر"گرد و غبار" کی وجہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اور وہ ہے آسمانی متن میں انسانی اضافہ۔ یہ اضافہ ابتدا ء وقتی محرکات کے تحت وجود میں آتا ہے۔ اور اس کے بعد رفتہ رفتہ رفتہ مقدس بن کر اصل خدائی مذہب کا جزء بن جاتا ہے۔ اس کو لوگ اسی طرح ماننے لگتے ہیں جس طرح خدائی وحی کو ماننا چاہئے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ اپنے احبار و رہبان کو خدا کے سوا اپنا رب بنا لیتے ہیں (توبہ - ۳۱)
اس اضافے کے محرکات عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں :
١۔ مذہب کی حقیقت کو خارجی طور پر متعین کرنے کی کوشش (EXTERNALISATION)
۲۔ مذہب کی تعلیمات کو عقلی اصطلاحوں میں بیان کرنا (RATIONALISATION)
پہلی غلطی کی ایک مثال بائبل (پرانا عہد نامہ) کے ابتدائی ابواب ہیں جو قربانی کی انتہائی جزئی تفصیلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بے شمار آداب اور طریقے یا قرآن کے الفاظ میں اصرا و اغلال (اعراف - ۱۵۷) جو موجودہ بائبل میں درج ہیں، ان کا حقیقی موسوی شریعت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ بعد کے یہودی علماء کی پیدا کردہ فقہ تھی جس کو کتاب مقدس میں شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح وہ بدعت (حدید - ۲۷) جو مسیحیت میں رہبانیت کے نام سے رائج ہوئی، وہ بھی بعد کو پیدا ہونے والا مسیحی تصرف تھا جس کا حضرت مسیح نے کبھی حکم نہیں دیا تھا۔ یہ چیزیں جو ابتداءََ یہودی عبادت یا مسیحی روحانیت کا خارجی ڈھانچہ بنانے کی کوشش کے سلسلے میں وجود میں آئیں، دھیرے دھیرے خود یہودیت اور مسیحیت کا جزو بن گئیں۔ یہاں تک کہ ان کے ہجوم میں اصل دین خداوندی گم ہو کر رہ گیا۔
دوسرے بگاڑ کی مثال موجودہ مسیحیت کے عقائد " تثلیث، کفاره، ابنیت مسیح وغیرہ ہیں۔ یہ عقائد نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح نے کبھی تلقین نہیں کئے بلکہ آج بھی وہ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی انجیلوں میں نہیں پائے جاتے۔ کفارہ کا عقیدہ سینٹ پال نے ایجاد کیا، تاہم تثلیث اس کے یہاں بھی نہیں۔ یہ سب مسیحی متکلمین کی باتیں تھیں جو بعد کے دور میں وجود میں آئیں، مسیحیت جب شام سے باہر نکلی تو دوسری قوموں، خاص طور پر مصریوں اور یونانیوں کو، مسیحی بنانے کی خاطر مسیحی علماء نے یہ کیا کہ اپنی تعلیمات کو ان کی مانوس زبان میں بیان کرنا شروع کیا جس کو قرآن میں مضاہاة (توبہ ۳۱) کہا گیا ہے۔ مسیحی بزرگوں کی یہ باتیں دھیرے دھیرے مقدس ہوتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ رومی شہنشاہ قسطنطین اول کے کے زمانہ میں جب ان کو سیاسی حمایت بھی حاصل ہوگئی تو نیقیا کونسل (۳۲۵) کے ذریعے اس خود ساختہ مسیحیت کو انھوں نے حقیقی مسیحیت کی حیثیت سے بزور رائج کر دیا۔ گویا وہ چیز جس کو آج مسیحی عقائد کہا جاتا ہے، وہ در حقیقت کسی زمانہ کا مسیحی کلام تھا جو بالآخر مسیحیت کا جزو بلکہ اصل مسیحیت بن گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues