Al-Risala · January 1978 · page 26

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۶

اس اصول کا نہایت کامیاب مظاہرہ خود پیغمبر اسلام نے معاہدہ حدیبیہ کی صورت میں کیا۔ آپ نے جنگ سے بچنے کے لئے بظاہر ایک مقولہانہ صلح کرلی۔ آپ میدان جنگ کو چھوڑ کر میدان دعوت کی طرف واپس چلے گئے۔ یہ صلح جو ظاہر بینوں کے نزدیک ”ذلت آمیز شکست“ کے ہم معنی تھی، خدا نے اس کو فتح مبین (فتح - ۱) قراردیا ان الفاظ کی صداقت صرف دو برس میں ثابت ہو گئی۔ صلح کے وقت مسلمانوں کی تعداد بمشکل ڈیڑھ ہزار تھی ۔ جب کہ اس کے بعد، دعوت و تبلیغ کے نتیجہ میں، ان کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔ اب اسلام اتنا طاقت ور ہو چکا تھا کہ مکہ کسی جنگ کے بغیر فتح ہو گیا۔ مسلمانوں کے اندر بعد کے زمانے میں، یہ جو ذہن پیدا ہوا کہ وہ سیاسی اقتدار سے ٹکرانے اور شمشیری کمال دکھانے کو جہاد سمجھنے لگے ، اس کی ایک وجہ اور تھی۔ اور وہ یہی فتنہ تھا جس میں اکثر پچھلی امتیں مبتلا ہوئی ہیں۔ سلیمان بن داؤد (۹۳۷ - ۹۹۱ ق م) یہودیوں کے ایک جلیل القدر پیغمبر تھے۔ آپ کی حکومت شام و فلسطین کے علاوہ مشرق میں فرات کے ساحل تک اور مغرب میں سرحد مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کو بعض غیر معمولی معجزے دیے گئے تھے۔ ہوا ان کے لئے مسخر تھی، وہ جانوروں کی بولیاں سمجھ سکتے تھے (نمل) معدنیات پر انہیں خصوصی قدرت حاصل تھی۔ جنات ان کے تابع کر دیے گئے تھے (ص، سبار) اسی قسم کے ایک جن نے ملکہ سبا کا تخت پلک جھپکنے میں یمن سے لا کر فلسطین میں رکھ دیا تھا (نمل)

حضرت سلیمان کی وفات کے بعد، آپ کی یہ خصوصیات، یہود کے لئے فتنہ بن گئیں۔ اپنے ”قومی بزرگ “ کی تقلید میں انہوں نے کوشش شروع کردی کہ وہ بھی اس قسم کے کمالات اپنے اندر پیدا کریں۔ انہوں نے بطور خود کچھ گھڑا ماتی فنون ایجاد کئے اور ان کو حضرت سلیمان کی طرف منسوب کر دیا (بقره - ۱۰۲) سحر و کہانت اور مختلف قسم کے سفلی عملیات، سب مفروضہ ”سلیمانی انگشتری“ کے بدل کے طور پر بنے۔ طلسماتی اعمال میں انھوں نے اتنی شہرت حاصل کی کہ ۳۰ قام میں جب ایرانی بادشاہ بخت نصر نے ان کو اپنے وطن سے منتشر کیا تو فلسطین کے باہر بھی توہم پرست لوگوں میں وہ اپنے معتقدین پاتے رہے۔ بابل (قدیم عراق) میں وہ محنت مزدوری کرانے کے لئے لے جائے گئے تھے۔ مگر جوش انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ” بابل کا مذہبی احترام ہر خطہ کے یہود میں قائم رہا“ (جلده، صفحہ ۱۳ام) ۔ ______۔ اس نفک تعلیم کے اثر سے، موجودہ زمانہ میں، یہودیوں میں اس قسم کے عملیات کا رواج ختم ہو گیا ۔ تاہم یہ فن اب بھی اپنے سرپرستوں سے محروم نہیں۔ نبی آخرالزمان کی امت نے اس کو ”اسلامی“ بنا کر زیادہ بہتر طور پر اپنی مقدس سر پرستی میں لے لیا ہے ۔ یہی قصہ مختلف شکلوں میں، دوسرے انبیاء کی امتوں کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔ ہر نبی کو، اس کے حالات اور زمانہ کے اعتبار سے، کوئی خصوصی چیز دی جاتی ہے۔ اس کی امت کی بعد کی نسلوں میں جب دینی شعور کمزور پڑتا ہے تو یہ چیز فتنہ بن جاتی ہے۔ یہ فتنہ ہمیشہ اس خصوصیت کی مناسبت سے ہوتا ہے جو کسی نبی کو دیا گیا تھا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو خارق عادت معجزے نہیں دیئے گئے۔ اس کے بجائے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خصوصی فیصلہ کیا جو، معلوم تاریخ کے مطابق، کسی اور نبی کے ساتھ نہیں کیا گیا تھا۔ دوسرے انبیاء کے مخالفین کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page