Al-Risala · January 1978 · page 27

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷

زیر کرنے یا ان کو ہلاک کرنے کے لیے خدائی آفتیں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ نوح، لوط ور ہود علیہم السلام کے مخالفین کے ساتھ ہوا۔ مگر پیغمبر اسلام کے لیے اللہ کا یہ فیصلہ ہوا کہ آپ کے پیروؤں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی جائے اور ان کی تلواروں سے ان کے مخالفین کو زیر کیا جائے (توبہ - ۱۱۳) اور اس طرح ان کو غالب کر کے ایک طاقت اور اسلامی سلطنت قائم کی جائے۔ ایسا کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ نبی آخر الزماں کے ذریعہ دین خدا وندی کو تاریخ کی حیثیت دینی تھی جو ہزاروں نبیوں کی آمد کے باوجود ابھی تک صرف ایک مذہبی افسانہ بنا ہوا تھا۔ نبیوں کی آمد کا سلسلہ بند کرنے کا لازمی تقاضا تھا کہ کتاب الہی کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا جائے، پیغمبر آخرالزمان کو اگر اظہار دین کی) یہ خصوصیت نہ دی جاتی تو ان فائدوں کا حصول ناممکن تھا۔

پیروان اسلام کے پاس فتنہ میں پڑنے کے لئے حضرت سلیمان جیسے معجزات و کرامات نہ تھے۔ آپ کی امتیازی خصوصیت، ظاہری طور پر دیکھنے والوں کے لئے، فتوحات اور سیاسی انقلابات تھے۔ بعد کے زمانہ میں اسلام کے پیروؤں کے لئے یہی چیز فتنہ بن گئی۔ وہ آپ کی زندگی کے سیاسی پہلو کو آپ کے مشن سے الگ کر کے دیکھ نہ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبر عربی اقتدار وقت سے ٹکرانے اور سیاسی معجزات دکھانے کے لئے آئے تھے۔ اس لئے انھیں بھی تلوار زنی اور سیاست رانی کے جوہر دکھانے چاہئیں ، ٹھیک ویسے ہی جیسے یہود نے سمجھ لیا کہ حضرت سلیمان کراماتی شعبدوں کا مظاہرہ کرنے کے لئے آئے تھے، اس لئے انھیں بھی اسی قسم کی چیزوں میں مشغول ہونا چاہئے، حالانکہ پیغمبر اسلام کا مشن بھی، قرآن کی تصریحات کے مطابق، وہی تھا جو دوسرے تمام انبیاء کا مشن تھا۔ آپ دعوت الی اللہ اور انذار آخرت کے لئے تشریف لائے تھے۔ نہ کہ تلوار چلانے اور سیاسی کارنامے دکھانے کے لئے۔ جس طرح پچھلے انبیاء زلزلوں اور طوفانوں کے ذریعہ شہروں کو زیر زمین دفن کرنے یا زرخیز زمینوں کو بے آب و گیاہ بتانے نہیں آئے تھے، حالانکہ یہ سب واقعات ان کے ذریعہ سے وجود میں آئے۔ اسی طرح نبی آخر الزماں تلوار چلانے اور قوموں کو زیر کرنے کے لئے مبعوث نہیں کئے گئے، اگر چہ مصلحت خداوندی کے تحت یہ واقعات بھی آپ کی زندگی میں پیش آئے۔ اس ذہن کے اثرات بہت عرصہ سے سیرت اور تاریخ کی ترتیب میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ قرآن اور حدیث میں پیغمبر اسلام کی جو تصویر ہے، وہ سیرت میں آکر بدل جاتی ہے۔ سیرت کی کتابیں، دوسرے پیغمبروں کے حالات زندگی کے برعکس، فتوحات اور مغازی کی داستانیں نظر آتی ہیں۔ اسلامی تاریخ تک پہنچ کر یہ ذہن اور ترقی کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ، عملاً، اسلام کی تاریخ سے زیادہ سلاطین اور جنرلوں کے کارناموں کی فہرست بن گئی ہے۔ ایسا ہونا فطری تھا۔ اسلام کی تاریخ، بعد کے زمانہ میں اس وقت مرتب کی گئی جب کہ مسلم تلواروں کی جھنکار سے تمام ممالک گونج رہے تھے ۔ فتوحات اور جنگوں کی خبریں سارے مسلم معاشرہ میں سب سے بڑا موضوع گفتگو بنی ہوئیں ۔ اس ماحول میں لکھی جانے والی سیرت کی کتابیں اگر "مغازی" کی داستان بن جائیں اور اسلامی تاریخ " فتوح البلدان" کے روپ میں ڈھل جائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ سیرت یا اسلام کی تاریخ اگر کی دور میں لکھی ہوئی تو اس کا اندازہ اس سے بالکل مختلف ہوتا جو آج ہمیں اس موضوع کی کتابوں میں نظر آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page