اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸
موجودہ زمانہ میں پنجہ کر یہ ذہن ایک نئی شدید تر صورت اختیار کر گیا ہے۔ موجودہ زمانہ اسلامی تحریکوں کا زمانہ ہے۔ مگر ہم حیرت ساتھ دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں، ان میں سے اکثر اقتدار وقت کے خلاف لڑائی بھڑائی کے راستہ پر پڑ گئیں۔ اس کی وجہ، جزوی طور پر وقت کے سیاسی ماحول کے خلاف رد عمل اور جزوی طور پر مندرجہ بالا تاریخی نفسیات رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں، مغربی تہذیب کے تصادم کی وجہ سے، اسلام اور مسلمانوں کے کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے، وہ ایک دعوتی اور تعمیری جدوجہد کا تقاضا کر رہے تھے۔ مگر مسلمان، ساری دنیا میں، شمشیری مقابلہ یا سیاسی ٹکراؤ کے طریقہ کی طرف چلے گئے اور نتیجہ بربادی کے سوا کچھ بھی ان کے حصہ میں نہ آیا۔ اسلام ساری دنیا کے لئے خدا کی رحمت (انبیاء - ۷، ۱۰) تھا۔ وہ اس لئے آیا تھا کہ خدا کے بندوں کو خدا کے • سایہ کے نیچے جمع کر دے۔ مگر خدا کی یہ رحمت ابھی تک اس کے تمام بندوں تک وسیع نہ کی جاسکی۔ اس کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ خود حاملین اسلام پر عائد ہوتی ہے۔
حاملین اسلام ، خدا کی رحمت کو تمام انسانوں تک پہنچانے میں ناکام رہے۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے جس کو قرآن میں تفرق في الدین (شوری - ۱۳) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دین کے آفاقی اور دائمی حصہ کو قرآن میں محفوظ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ بس یہی دین کی شاہراہ (صراط مستقیم) ہے، اس پر چلتے رہو۔ اس کے سوا اپنی طرف سے اس میں نئے نئے راستے مت نکالو (انعام - ۱۵۳)۔ مگر مسلمانوں نے خدا کے بتائے ہوئے دین کے سوا بہت سی اور چیزیں نکالیں اور ان کو "دین" قرار دینے پر اصرار کیا۔ ان غیر قرآنی امور پر ساری امت مجتمع نہیں ہو سکتی تھی۔ کچھ لوگوں نے ایک چیز پر اصرار کیا، کچھ لوگوں نے دوسری چیز پر۔ اس طرح دین میں نئے نئے فرقے بنتے چلے گئے۔ ان اختلافات نے لوگوں کو آپس کی لڑائیوں میں مصروف کر دیا، پھر وہ دوسروں تک خدا کا پیغام پہنچانے کا وقت کہاں پا سکتے تھے۔ اسلام ایک سادہ دین ہے (بعثت بالحنيفية السمحة) مگر کچھ لوگوں نے چاہا کہ اسلام کی سادہ تعلیمات میں فنی تفصیلات اور خارجی تعینات کا اضافہ کرکے بزعم خود اس کو مکمل کریں۔ یہی کوشش تھی جس نے ان تمام فنون کو پیدا کیا جن کو فقہ اور تصوف اور علم کلام کہا جاتا ہے۔ احکام اسلامی کی فنی تفصیلات متعین کرنے کا نام فقہ ہے۔ معرفت الہی کے خارجی ذرائع مقرر کرنے کا نام تصوف ہے۔ اعتقادیات اسلامی کو عقلی پیمانوں میں ڈھالنے کا نام علم کلام ہے۔ بظاہر یہ کوششیں مفید اور بے ضرر معلوم ہوتی ہیں۔ مگر دین خداوندی کا معاملہ عام انسانی معاملات سے مختلف ہے۔ دین میں کوئی اضافہ، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، بالآخر مقدس بن جاتا ہے۔ جو لوگ ایک بار اس سے وابستہ ہو جائیں، وہ نہ صرف خود بلکہ ان کی نسلیں بھی اس کو چھوڑنے یا اس کو غیر اہم سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں۔ ایسی ہر کوشش دین میں صرف ایک نیا فرقہ وجود میں لانے کا باعث بنتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دین میں کسی طریقہ کا اضافہ کرنا مطلق ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز نکالے جو اس میں نہ ہو من احد ث فی امرنا هذا اما ليس منه فهورد
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues