Al-Risala · June 1978 · page 30

وصفی زبان

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰

فنی حیثیت سے بظاہر بڑا وقیع معلوم ہوتا ہے مگر اسی میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ دین وہ نہیں جس کو عرب کے پیغمبر ہمارے لئے چھوڑ کر گئے تھے ۔ آپ نے فخر کے ساتھ فرمایا تھا ۔ نحن امۃ امیۃ ( ہم تو سیدھی سادی امت ہیں) بعثت بالحنيفية السمحة ، ( میں سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں) مگر یہودیوں اور عیسائیوں کے اتباع میں ہم نے دین کو ایک پیچیدہ فن بنا ڈالا جس طرح انھوں نے موسیٰ اور عیسی کے دین کو فن بنا دیا تھا۔ اس ” فنی دین“ کا غیر دینی ہونا اس سے واضح ہے کہ صحابہ کرام میں سے کوئی بزرگ اگر آج زندہ ہوں تو وہ ہمارے، مدارس عربیہ میں سے کسی مدرسہ میں "شیخ الحدیث" کے منصب پر فائز نہیں کئے جا سکتے ۔ کیونکہ آج ان مدارس میں علم حدیث جس طرح پڑھایا جاتا ہے وہ اس کے لئے بالکل ناموزوں ثابت ہوں گے ۔ حتیٰ کہ نعوذ باللہ شاید خود اللہ کے رسول بھی ۔ خالص علمی اعتبار سے بھی بحث کا یہ طریقہ موجودہ زمانہ میں بے وزن ہو چکا ہے۔ قدیم منطق کی بنیاد ذہنی قیاس آرائیوں پر قائم تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں منطق کی بنیاد سائنس ہے جو حقیقی حوالوں اور واقعاتی تجزیہ سے کسی بات کو ثابت کرتی ہے ۔ مگر مدارس دینیہ میں جو کتا بیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ چونکہ قدیم منطقی اسلوب پر لکھی گئی ہیں، اور اساتذہ اپنے درسوں میں اسی اسلوب پر مسائل کی تشریح کرتے ہیں، اس لئے ان اداروں سے جو افراد تربیت پا کر نکلتے ہیں، وہ اپنے طرز فکر اور انداز استدلال کے اعتبار سے موجودہ زمانہ کے لئے اجنبی ہوتے ہیں ۔ وہ "منطق اسلحہ" سے لیس ہونے کے باوجود آج کے انسان کو علمی اور منطقی طور پر اپنا دین سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے آج کی دنیا میں جب وہ داخل ہوتے ہیں تو، احساس کمتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں یا جرات کر کے اسلام کے داعی بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی اسلامی تشریحات آج کے علمی انسان کو یہ غلط تاثر دیتی ہیں کہ اسلام صرف قدیم دور کے انسان کو مطمئن کر سکتا تھا، آج کے انسان کے ذہنی اطمینان کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں۔ علم کلام کے بارے میں مزید گفتگو اگلے باب میں آرہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page