Al-Risala · June 1978 · page 29

وصفی زبان

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹

تدریس میں۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے اس لٹریچر کو دین کی مطلق تشریح سمجھ رہا ہے نہ کہ محض وقتی طور پر پیدا شدہ علم کلام۔

صلیبی جنگوں کے زمانہ میں شام ومصر میں ہتھیار تیار کرنے کی جو بھٹیاں بنائی گئی تھیں، آج ان کا کہیں وجود نہیں ہے۔ کیونکہ وقت گزرنے کے بعد ان کی اہمیت ختم ہو گئی۔ اسی طرح قدیم معقولات کو بھی اسلام کی علمی فہرست سے خارج ہو جانا چاہیے تھا۔ جو چیز وقتی ضرورت کے تحت آتی ہے، وہ وقت ختم ہونے کے بعد خود بخود چلی جاتی ہے۔ مگر قدیم معقولات سے ہم بھی تک نجات حاصل نہ کر سکے۔

اس کی وجہ قدیم معقولات کا ہماری فنون کی کتابوں میں شامل ہو جانا ہے۔ جس زمانہ میں یہ اجنبی علوم اسلام کے معاشرہ میں داخل ہوئے، یہ وہی زمانہ تھا جب کہ اسلامی علوم کی تدوین ہو رہی تھی۔ قدیم منطقی انداز لوگوں کے لئے اتنا مسحور کن ثابت ہوا کہ انھوں نے سمجھا کہ اسلامی علوم کی تدوین کے لئے بھی یہی انداز سب سے زیادہ موزوں ہے۔ چنانچہ اسلامی فنون کی کتابیں قدیم منطقی انداز میں لکھی جانے لگیں۔ اس واقعہ نے قدیم منطق کو اسلامی کتب خانہ کا لازمی جزو بنا دیا۔ کسی بھی عالم کو بآسانی اس رائے سے متفق کیا جا سکتا ہے کہ قدیم معقولات کو مدارس دینیہ کے نصاب سے خارج کر دیا جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ فوراً ہی یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہماری کتب فنون کو سمجھنے والے لوگ کیسے تیار ہوسکیں گے۔ قدیم معقولات کو دنیا سے مٹا دیا جائے تو قرآن وحدیث کو سمجھنے میں کسی کو زحمت نہ ہوگی۔ کیوں کہ قرآن وحدیث کی ترتیب قدیم منطق کی اصطلاحات میں کی ہی نہیں گئی ہے۔ مگر علم عقائد اور اصول فقہ کی بنیادی کتابوں کو کوئی شخص بخوبی طور پر سمجھ نہیں سکتا جب تک قدیم منطقی اصطلاحات سے اس کو آگاہی نہ ہو۔

یونانی معقولات، جس کو اب خود یونان بھی چھوڑ چکا ہے، دین کے ساتھ جوڑنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دین میں تدبر اور دینی مسائل کو بیان کرنے کا ایک ایسا نہج بن گیا جو رسول اللہ کی سنت اور صحابہ کرام کے انداز سے بالکل مختلف تھا۔ حنفیہ نے امام کے پیچھے فاتحہ کی قرآت کے ترک کا فتویٰ دیا ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کے کے سامنے اس مسلک کے خلاف یہ حدیث پیش کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اصحاب سے کہا، شاید تم لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے قرآت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: لا تفعلوا الا بام القرآن نہ پڑھو سوا سورہ فاتحہ کے مولانا رشید احمد گنگوہی نے حنفی مسلک پر اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے جواب دیا:

هذا دليل الاباحة لا دليل الوجوب (تحفتہ العنبر) یہ اباحت کی دلیل ہے نہ کہ وجوب کی دلیل یہ ایک سادہ سی مثال ہے اس بات کی کہ بعد کے زمانے میں ہمارے یہاں مذہبی بحث وگفتگو کا جو انداز پیدا ہوا، وہ کس طرح اسلام کے ابتدائی سادہ اسلوب سے ہٹا ہوا تھا۔ چنانچہ وہی شخص آج عالم سمجھا جاتا ہے جو اس قسم کی فنی زبان اور منطقی اسلوب میں دینی مسائل کو بیان کر سکتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی مباحث کا یہ انداز

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page