Al-Risala · June 1978 · page 32

عقلیاتِ اسلام

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲

انسان کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے، مشاہداتی استدلالی حصہ اس کے لئے ممکن نہیں۔ ہم صرف اس پوزیشن میں ہیں کہ استنباطی استدلال قائم کر سکیں۔ ہم حقائق کو دیکھ نہیں سکتے، ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ظاہر اشیاء پر غور کر کے یہ مستنبط کریں کہ یہاں فلاں چیز پائی جاتی چاہئے۔

اب موجودہ زمانہ میں ایک نیا نظریہ علم وجود میں آیا ہے جو حیرت انگیز طور پر قرآنی نظریہ علم کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں کہا گیا تھا کہ انسان کو علم قلیل (بنی اسرائیل - ۸۵) دیا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بالواسطہ علم پر قناعت کرنی چاہئے نہ کہ وہ براہ راست علم کے لئے اصرار کرنے لگے۔ اس طرح وحی اور علم انسانی دونوں ایک نقطہ پر پہنچ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریہ علم نے قرآنی طرز استدلال کو جدید اصطلاح میں، عین سائنٹفک استدلال کا درجہ دے دیا ہے موجودہ زمانہ میں علم کلام کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اس اہم ترین دریافت کو مدوّن کرے ۲۔ دوسرا کام قرآنی علم الآثار کی تدوین ہے۔ قرآن میں پچھلے انبیاء اور گزری ہوئی تہذیبوں کا ذکر ہے۔ یہ قرآن کا وہ حصہ ہے جس کو ایام اللہ (ابراہیم - ۵) کہا گیا ہے۔ تاریخ انسانی کے یہ واقعات قرآن کے نقطہ نظر سے بے صداہم ہیں، وہ ثابت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ ہر دور میں اپنے نمائندے بھیجتا ہے اور اپنے اٹل قوانین کی بنیاد پر قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔

یہ اگر چہ تاریخ کا مضمون ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر معروف تاریخی انداز میں نہیں ہے، بلکہ دعوتی اور اجمالی انداز میں ہے۔ ان واقعات کے بارے میں قرآن سے باہر جو ریکارڈ ہے، وہ قدیم زمانے میں بڑی حد تک لامعلوم تھا۔ اس لئے قدیم زمانے میں قرآن کے ان اجزاء کی تدوین خالص تاریخی انداز میں ممکن نہ تھی۔ اب ان واقعات سے متعلق بے شمار دبے ہوئے ریکارڈ دریافت ہو گئے ہیں، اس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایام اللہ کے بارے میں قرآنی حوالوں کو منضبط کیا جائے، قرآن کی دعوت کو تاریخ کی زبان میں مدون کر دیا جائے ۔

۳۔ تیسرا کام آیات آفاق (سجدہ - -53) کو جدید دریافتوں کی مدد سے ترتیب دینا ہے۔ قرآن کے مطابق کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اور اس حکمت کو بتاتی ہیں جس کے تحت یہ کارخانہ بنایا گیا ہے۔ قرآن میں بار بار ان نشانیوں کے حوالے دیئے گئے ہیں اور ان سے قرآن کی دعوت کو مدلل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ حوالے اشاراتی زبان میں ہیں۔ قدیم زمانہ میں ایسی معلومات حاصل نہ تھیں جن سے ان اشارات کو تفصیلی انداز میں سمجھا جا سکے۔ اب سائنس کے ارتقاء نے یہ مواد بڑی حد تک جمع کر دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ سائنس موجودہ زمانہ میں اسلام کی تھیالوجی بن چکی ہے۔ تاہم اس کو مدون کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ ضرورت ہے کہ خدا کی یہ نشانیاں، جو طبعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں، جدید دریافتوں کی مدد سے ان کو مفصل شکل میں مرتب کیا جائے۔

۴۔ قرآن کے استدلال کا ایک پہلو وہ ہے جس کو آیات النفس (حم سجدہ - ۵۳) کہا گیا ہے یعنی نفسیات انسانی کے اندر خدا کی نشانیاں۔ یہ جز بھی قدیم زمانہ میں بڑی حد تک مخفی تھا۔ صوفیاء نے اس پہلو سے بہت کچھ لکھا ہے مگر وہ علم حقائق سے زیادہ قیاسات پر مبنی ہے اور اس کا بڑا حصہ موجودہ زمانے میں بے قیمت ہو چکا ہے۔ تاہم علم انفس کی تحقیقات

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page