Al-Risala · June 1978 · page 33

عقلیاتِ اسلام

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳

نے موجودہ زمانے میں بہت سی ایسی معلومات فراہم کر دی ہیں جن کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو اگر پوری طرح نہیں تو بڑی حد تک مفصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ کام اگر علمی سطح پر ہو جائے تو وہ قرآنی نظریات کے حق میں ایک عظیم نفسیاتی تصدیق ثابت ہوگا۔

۵۔ آخر میں ایک ایسے علمی کام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو رواجاً علم کلام میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ مقاصد کے اعتبار سے اس کو علم کلام کا سب سے اہم جزو ہونا چاہئے۔ یہ ہے سائنٹفک انداز میں اسلام پر تعارفی لٹریچر تیار کرنا۔ موجودہ زمانے میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر تقریباً تمام کتابوں پر کسی نہ کسی طرح، کلامی انداز غالب رہا ہے۔ تفسیر سیرت، عام اسلامی لٹریچر کا جو ذخیرہ موجودہ زمانہ میں تیار ہوا ہے، تقریباً سب کا سب، علم کلام کے خانہ میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ان کتابوں کی علمی قدر و قیمت کیا ہے، خود یہ بات عصری تقاضے کے خلاف ہے کہ تفسیر اور سیرت کو علم کلام بنا دیا جائے۔

موجودہ زمانہ آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان یہ چاہتا ہے کہ اصل بات، کسی تعبیری یا کلامی اضافہ کے بغیر اس کے سامنے رکھ دی جائے ۔ اور جانچنے پرکھنے کا معاملہ خود قاری کے اوپر چھوڑ دیا جائے یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے ہجوم کے باوجود ساری دنیا میں نئی اسلامی کتابوں کی مانگ ہے۔ آج کا انسان اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے۔ مگر ایسی کتابوں کے ذریعہ جن میں اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا گیا ہو جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ آج کا انسان عقلیاتی اسلوب سے زیادہ سائنٹفک اسلوب کا دلدادہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے کسی بھی اسلامی زبان میں اب تک سائنٹفک اسلوب رواج نہ پا سکا۔ سائنٹفک اسلوب سے مراد معروف کلامی اسلوب نہیں ہے۔ بلکہ ایسا سادہ اور مثبت اسلوب ہے جس میں زبان و بیان دونوں اعتبار سے حقیقت نگاری کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔

موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے والوں نے بے شمار کتابیں اسلام پر لکھی ہیں۔ مگر میرے علم کی حد تک کسی بھی زبان میں کوئی ایسا تعارفی سٹ تیار نہیں ہوا ہے جس میں سادہ، مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز میں اسلام کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی سیرت کو مرتب کیا گیا ہو، حالانکہ آج سب سے زیادہ ضرورت اسی قسم کی کتابوں کی ہے۔ میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ اگر ہم کچھ اور نہ کریں، صرف اتنا کریں کہ تعلیمات قرآن، سیرت، حدیث، حالات صحابہ اور تاریخ اسلام (نہ که تاریخ فتوحات) پر خالص علمی اسلوب اور حقیقت نگاری کی بنیاد پر کتابوں کا ایک سٹ تیار کروائیں اور اس کو تمام زبانوں میں چھاپ دیں تو ہم علم کلام کے مقصد کو، کم از کم آج کی دنیا میں، زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکیں گے۔ نوٹ: دسمبر ۱۹۷۰ء کے آخری ہفتہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے زیراہتمام ایک سیمینار ہوا عنوان تھا: "فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا مسئلہ" اس موقع پر ۲۸ دسمبر کی نشست میں یہ مقالہ پڑھا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page