علومِ اسلامی کی تدوین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵
کی ہر چیز مقدس بن جاتی ہے۔ چنانچہ وقت گزرنے لے کر ساتھ اس متوازی دین میں تقدس کا عنصر بھی شامل ہوتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ اب کوئی شخص یہ سوچ نہیں سکتا کہ فقہ کی کتابوں میں کوئی مسئلہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو قرآن و سنت کی منشا کے مطابق نہ ہو۔ اور صوفیا کے ملفوظات اور قصوں میں کسی غلطی کا بھی امکان ہے۔ یا مزید معقولات میں بھی کوئی چیز ایسی ہو سکتی ہے جس کو غیر منقول کہا جائے ــــــــ اس کے بعد قرآن کو جہاں جگہ مل سکتی تھی، وہ صرف برکت کا خانہ تھا۔ وہ برکت کی حیثیت سے کتاب تلاوت بن کر وہ گیا۔ حتیٰ کہ جن لوگوں نے قرآن کی تفسیریں لکھیں، ان کے سامنے بھی یا تو "ثواب" حاصل کرنا تھا یا یہ تھا کہ فقہ، تصوف یا معقولات میں اپنے مخصوص نقطہ نظر کو خدا کی کتاب سے ثابت کر دکھایا الا ماشاء اللہ۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ اور تصوف اور علم کلام کی شکل میں جو اضافے اسلام میں ہوئے، ان کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ قرآن کا سرا امت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ان اضافوں نے دین کو ایک قسم کا فن بنا دیا۔ کتاب الہیٰ میں جو چیز ساوہ اور فطری انداز میں بتائی گئی تھی، اس میں اپنی طرف سے موشگافیاں کر کے نئے نئے مسئلے پیدا کئے اور بطور خود بے شمار اصطلاحات وضع کیں تاکہ ان کو فنی انداز میں بیان کیا جاسکے۔ اس طرح دین خداوندی ایسے احکام و مسائل کا مجموعہ بن گیا جوصرف فنی کتابوں کے مطالعہ سے جانا جا سکتا ہو نہ کتاب الہیٰ کے ذریعہ اس کو معلوم کرنا ممکن نہ ہو۔ آج کسی کو نماز کے "مسائل" جاننا ہوں تو اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ وہ اس مقصد کے لئے قرآن کا مطالعہ کرے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نماز کے مسائل تو فقہ کی کتابوں میں ملیں گے۔ کسی کو روحانی ترقی مطلوب ہو تو اس کو کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ خدا کی کتاب کے بیٹھے اور اس میں روحانی سلوک کے طریقے تلاش کرے۔ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ کسی "بزرگ" کے پاس پہنچ جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فن روحانیت کے آداب تو فن روحانیت کے کسی ماہر ہی سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو یہ شوق ہو کہ دہ اسلام کی دعوت کو عقلی طور پر مدلل کرے تو وہ قرآن میں اس کے نکتے نہیں ڈھونڈے گا بلکہ معقولات میں غرق ہو جائے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس فن کی باریکیاں صرف معقولات کی کتابوں سے حاصل کی جا سکتی ہیں ــــــــ قرآن اس لئے اتارا گیا تھا کہ لوگ اس میں تدبر (ص - (۲۹) کرکے اپنے لئے رہنمائی حاصل کریں مگر قرآنی تعلیمات کو فن بنانے کا نتیجہ ہوا کہ قرآن کتاب تدبر نہ رہا، کتاب تلاوت بن گیا جس کا آخری استعمال یہ تھا کہ اس کو ہر روز یا ہر ہفتہ میں "ختم" کر لیا جایا کرے لوگ اپنے دین کو اپنے اخبار و مہمان سے اخذ کرنے لگے اور قرآن کو برکت کی چیز کی حیثیت سے جزو دان میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ ایسا ہونا بالکل فطری تھا کہ کیوں کہ جن نکتوں اور موشگافیوں کو انھوں نے دین سمجھ رکھا تھا، وہ قرآن کے اندر موجود ہی نہ تھے۔ خدا کی کتاب سے محرومی کا یہ معاملہ اسی حد پر نہ رکا بلکہ وہ ہماری پوری زندگی پر چھا گیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری امور کی تفصیل بیان کر دی ہے (اسرار - ۱۳) وہ ہر معاملہ میں مومن کی ذہنی غذا ہے۔ مگر مذکورہ عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ذہن ہی ختم ہو گیا کہ اسلام اور ملت اسلام کے تمام مسائل کو ہم قرآن میں تلاش کریں، قرآن کو خالی الذہن ہو کر دیکھیے تو بلا اشتباہ نظر آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ رہ اس بات کو جانے کہ مرنے کے بعد اسے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues