Al-Risala · June 1978 · page 36

علومِ اسلامی کی تدوین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶

اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ اس آنے والے دن سے تمام قوموں کو باخبر کرنا ہی امت محمدی کا اصل مشن ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور اٹھنے والی بے شمار تحریکوں میں سے کوئی بھی قابل ذکر تحریک ایسی نہیں جو اس خاص مقصد کو لے کر اٹھی ہو۔

موجودہ زمانہ میں جو لوگ احیائے اسلام کے لئے اٹھے، وہ اگرچہ عالم تھے اور قرآن کو پڑھتے تھے مگر ان کا شکا نقطہ اور تصوف اور علم کلام نے بنایا تھا یہی چیز ہے جس نے قرآن کی صراط مستقیم سے لوگوں کو ہٹا دیا۔ ان میں سے جس کے اوپر کلامیات کا غلبہ تھا، اس کے ذہن میں خدمت دین کے شوق نے مناظرہ کی صورت اختیار کر لی۔ جو لوگ متصوفانہ ذہن رکھتے تھے، وہ خانقاہی طرز کی تعلیم و تربیت میں ملت کا مستقبل تلاش کرنے لگے۔ اسی طرح جن کا ذہن فقہ کے سانچے میں بنا تھا، وہ اسلام کو بطور ایک "نظام" کے دیکھنے لگے جس کو بروئے کار لانے کی واحد شکل یہ تھی کہ حکومت الہیہ قائم کر کے اسلام کے دیوانی اور فوجداری قوانین کو نافذ کیا جائے۔ یہ نقطہ نظر عوام تک میں اس طرح سرایت کر گیا کہ اسلام کے اصل کام کے لئے ان کے اندر کوئی اپیل نہیں رہی۔ ان کی فہرست میں صرف دو کام ثواب کے کام کی حیثیت سے باقی رہ گئے ۔ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر کے لئے چندے دینا، یا بزرگوں کی خدمت میں نذرانے پیش کرنا۔ ان کے سوا کوئی اور کام انھیں دینی کام نظر نہیں آتا، اس لئے اس میں ان سے تعاون کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔

ایک خالی الذہن شخص ہمارے اسلامی کتب خانہ کو دیکھے تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک اختلاف کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ دینِ مستقل اور دینِ مدون کا اختلاف ہے جو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔ خدا کا دین قرآن و حدیث میں، ایک سادہ اور فطری چیز نظر آتا ہے۔ وہ دلوں کو گرما تا ہے اور عقل میں جلا پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی الہی علوم جب انسانی کتابوں میں مدون ہو کر ہمارے سامنے آتے ہیں تو اچانک وہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس میں خشک بحثوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں نہ دلوں کے لئے گرمی ہے اور نہ عقل کے لئے روشنی ۔ قرآن میں بھی فقہ ہے مگر وہ کنز الدقائق (ابو البرکات نسفی) کی فقہ سے مختلف ہے۔ قرآن میں میں بھی تصوف ہے مگر ضیاء القلوب (حاجی امداد مہاجر کی) کے تصوف سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔ اسی طرح قرآن میں بھی معقولات ہیں مگر شمس باز غه (ملا جیون جونپوری) کی معقولات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین بذات خود کوئی غیر مطلوب چیز تھی ۔ وہ بلا شبہ مطلوب تھی۔ مگر اس نے بعد کی صدیوں میں جو رخ اختیار کر لیا وہ صحیح نہ تھا۔ اسلامی علوم کی تدوین تذکیری طرز پر مطلوب تھی نہ کہ فنی طرز پر جیسا کہ عملاً وقوع میں آیا۔ دین کو ذکر و نصیحت کی خاطر آسان (قمر - 17) بنایا گیا تھا ۔ مگر ہم نے اپنی پیچیدہ بحثوں سے اس کو شکل بنا دیا۔

قرآن کو ذکر یعنی نصیحت (لیس - (۶۹) کہا گیا ہے۔ قرآن میں غور وفکر (ص - (۲۹) اور علمی اضافہ (زمر- ۳۹) بھی مطلوب ہے جس سے ذکر اور نصیحت حاصل ہو۔ مزید یہ کہ علوم قرآنی کی تفصیل و تبیین کس طرح کی جائے اس کا بھی واضح نمونہ سنت رسول میں موجود تھا کیونکہ آپ اس کے لئے خدا کی طرف سے مامور تھے (نحل - (۴۴) اور آپ نے اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page