علومِ اسلامی کی تدوین
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸
خود ساختہ " عصر دا غلال " کے نیچے دب چکی ہے ۔ ان کے فقہاء و مشائخ نے اسلام میں وہ سارے اضافے کر ڈالے ہیں جو یہودی فقیہوں اور فریسیوں نے شریعت موسوی میں کئے تھے۔ آج اسلام کی تجدید کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو ان تمام اضافوں سے پاک کر دیا جائے۔ جب تک یہ کام نہ ہو اسلام کو زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کے دین کو فن بنانا بظاہر ایک حسین یا کم از کم بے ضرر چیز معلوم ہوتا ہے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ نہایت سنگین ہے۔ یہ دلوں کے اندر رفاوت پیدا کرتا ہے اور لطیف احساسات کو آدمی سے چھین لیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں خدا کا دین جس زبان میں ہے ، وہ انذار و تبشیر کی زبان ہے ، وہ تذکیر و نصیحت کی زبان ہے۔ یہ دونوں انداز ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں اور بالکل مختلف قسم کے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا انداز آدمی کو حقائق و معانی کی طرف متوجہ کرتا ہے ، جبکہ ہمارے فنی علوم اس کو جزئیات میں مشغول کر دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے انداز سے آدمی کے اندر تفکر و تدبر پیدا ہوتا ہے جب کہ فنی علوم بحث و جدال کے لامتناہی دروازے کھول دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا انداز آدمی کے احساسات کو اس طرح جگاتا ہے کہ یوم الحساب کا مسئلہ اس کو سب سے بڑا مسئلہ نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس فنی علوم آدمی کو لایعنی قسم کی منطقی موشگافیوں میں الجھا کر اس کو زندگی کے اصل سوالات سے دور کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ فنی علوم ، بظاہر ہر جائز علوم ہونے کے باوجود ، باعتبار نتائج اس مقصد کے لئے قاتل بن گئے ہیں جس کے لئے اللہ نے قرآن اتارا اور اپنا رسول بھیجا تھا۔
اس صورت حال کی اصلاح کی کوئی بھی شکل اس کے سوا نہیں ہے کہ قرآن و حدیث کو حقیقی معنوں میں لوگوں کے لئے دین اخذ کرنے کا ذریعہ بنا دیا جائے ، جس طرح اب وہ فنون کی کتابوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز کے بارے میں تمام بنیادی باتیں قرآن میں موجود ہیں۔ اس کے بعد اس کے ضروری مسائل حدیث اور آثار صحابہ میں مل جاتے ہیں۔ اب مسائل نماز پر ہماری جو کتاب لکھی جائے ، وہ بس انھیں تینوں چیزوں ( قرآن ، سنت ، آثار صحابہ ) پر مشتمل ہو۔ اس کے سوا کسی بھی چیز کو نماز کے مسائل میں شمار نہ کیا جائے حتی کہ ترجیح اور تفضیل کو بھی نہیں۔ کیونکہ صحابہ کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف ہونا اس مسئلہ میں دینی توسع کو بتاتا ہے۔ نہ یہ کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط ، ایک افضل ہے ، دوسرا غیر افضل۔
ہمارے عربی کتب خانہ کی " امہات کتب " کا بیشتر حصہ وہ ہے جو اسی فنی زبان میں مرتب کیا گیا ہے۔ فنی فقہ ، فن معقولات اور فن تصوف ، بعد کو پیدا ہونے والے اسلامی لٹریچر پر اسی طرح چھائے ہوئے ہیں جس طرح ہالہ چاند کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ نتیجہ اگر چہ متن اسلام نہیں مگر عملی اور روایتی اسلام ٹھیک اسی طرح انسانی آمیزش کا شکار ہو گیا جس طرح دوسرے مذاہب اس کا شکار ہوئے تھے۔ جب تک یہ کتابیں علم دین کا ماخذ ہیں ، کبھی یہ ممکن نہیں کہ صحیح تصویر دین لوگوں کے دماغوں میں جگہ پا سکے۔ صحیح دینی فکر پیدا کرنے کے لئے ناگزیر طور پر ضروری ہے کہ قرآن و حدیث اور آثار صحابہ کو علم دین کا ماخذ بنایا جائے نہ کہ ان کتابوں کو جو ہمارے دار العلوموں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے پہلا ناگزیر قدم یہ ہے کہ علوم قرآن ، علوم حدیث اور آثار صحابہ کو از سر نو سادہ علمی انداز میں مرتب
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues