Al-Risala · June 1978 · page 47

علومِ اسلامی کی تدوین

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۴۷

انتہائی مکمل شکل میں انجام دیا۔ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین کا یہ مطلب ہرگز یں ہے کہ اس میں فنّی اضافہ کیا جائے یا اللہ اور رسول نے جو احکام دئے ہیں، ان میں مزید استخراج کرکے نئے نئے سائل وضع کئے جائیں اور قرآن، جس میں امام غزالی کے نزدیک صرف پانچ سو احکام ہیں، اس کو پانچ سو ہزار احکام کا مجموعہ ب دیا جائے۔ نہ علوم اسلامی کی تدوین کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس میں بطور تمہید و تفصیل وہ چیزیں شامل کی جائیں جن میں ذکر اور نصیحت کا سامان ہو۔ قرآن میں ہم کو جو باتیں بتائی گئی ہیں، ان کے بارے میں جہاں یہ ہے کہ ان کو مضبوطی سے پکڑو، اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات پر غوراور تدبر کرو (ص۔ کرو(ص۔ 29)قرآن قرآن میں تفصیلات اور معانی کی تلاش بجائے خود ایک نا پسندیوہ چیز ہے۔ مگر یہ تلاش تذکیر و نصیحت کے اجزاء تلاش کرنے کے لئے ہونا چاہئے نہ کہ فنی تعینات اور قانونی فروعات ڈھونڈنے کے لئے۔

آج اگر کسی بستی کے لوگ دار الافتاء کو یہ مسئلہ لکھ کر بھیجیں کہ ہماری مسجد کا مسقف حصہ نمازیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے لئے تنگ ہورہا تھا اور مسجد کے موجودہ رقبہ میں اضافہ کی صورت نہ تھی۔ اس لئے ہم نے مسجد کے پورے صحن پر چھت ڈال دی۔ اب مشکل یہ پیش آگئی کہ مسجد میں صحن باقی نہ رہا۔ ایسی حالت میں کیا موسمی ضرورت کے تحت مسجد کی کھلی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے، تو ہمارا مفتی فوراً ایک شرعی مسئلہ کی حیثیت سے اس کا جواب دینے بیٹھ جائے گا اور لکھے گا کہ فلاں فلاں شرطوں کے ساتھ مسجد کی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ ہر چیز کو ”شرعی مسئلہ“ بنانا قطعاً اسلام کے خلاف ہے۔ یہ تو وہ یہودیت ہے جس کو مٹانے کے لئے نبی آخر الزماں کو مبعوث کیا گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے میں یہ حال تھا کہ جب اس قسم کا کوئی سوال کیا جاتا تو مسائل کو کوئی متعین جواب نہ دیا جاتا بلکہ یہ کہا جاتا کہ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اپنے حالات کے لحاظ سے جیسا مناسب سمجھو ویسا کرلو۔ احادیث و سیر کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی سوال کے جواب میں ”مسئلہ“ بتانے کے بجائے خود سوال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ مگر آج کے فقیہہ اور مفتی کے یہاں اس قسم کا کوئی خانہ نہیں۔ اس کے یہاں ہر چیز ایک شرعی مسئلہ ہے اور ہر بات کے جواب میں وہ اپنی فقہ کی کتابوں سے کوئی نہ کوئی جزئیہ دریافت کر لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ سائل کو مسئلہ کی شرعی صورت بتا سکے۔ ؂ نزول قرآن کے وقت یہود سے کہا گیا تھا:

وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ١٥٧ ؂ [اعراف۔ ١٥٧] یہ نبی ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور دہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔

مطلب یہ کہ یہودی فقیہوں نے اپنی قانونی موشگافیوں سے اور ان کے روحانی مقتداؤں نے اپنے تورع کے مبالغوں سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں کے نیچے دبا رکھا ہے اور جن خود ساختہ بندشوں میں انھیں جکڑ رکھا ہے، یہ پیغمبر ان سے انھیں آزاد کرتا ہے اور دین خداوندی کو اس کی بے آمیز شکل میں ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ آج پیغمبر آخر الزماں کی امت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page