Al-Risala · January 1978 · page 29

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹

تودہ قابل رد ہے۔

اس قسم کی کھلی ہوئی ممانعتوں کے باوجود لوگ انتہائی معصومانہ طور پر دین میں اضافے کرتے رہے اور بالآخر ایک دین کو کو’’72‘‘ دینوں میں تقسیم کر ڈالا۔

تاہم یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اسلام میں اگر اگر’’72‘‘ فرقے پیدا ہوئے تو عیسائیت میں ۲۷۳ فرقے بن گئے۔ ہند و ازم اس سے بھی زیادہ فرقوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس کے باوجود یہ قومیں باہمی جنگ سے بچ کر تعمیر و استحکام کے کاموں میں لگی ہوئی ہیں۔ عیسائیت کا یہ حال ہے کہ آج ساری دنیا میں بہت سے زیادہ منظم تبلیغی کام اسی مذہب کے لوگ کر رہے ہیں، حتی کہ اس نے مذہبی تبلیغ کو نئی وسعت اور بلندی عطا کی ہے۔ ہند و ازم جدید مغربی دنیا میں زبردست تبلیغی مذہب کی حیثیت سے اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے، سوامی ووی کانند (۱۹۰۲ - ۱۸۶۳) سے لے کر سوامی پر بھو پادا (۱۹۹۶ - ۱۸۹۶) تک ہند و مبلغین کا ایک سلسلہ ہے جس نے پوری پوری عمر اسی کام میں صرف کر ڈالی اور وقت کی زندہ زبانوں اور آج کی ترقی یافتہ قوموں میں اپنے دھرم کو بڑے پیمانے پر پھیلانے میں کامیابی حاصل کی۔ مگر اسلام، عملی طور پر، صدیوں سے ایک جامد مذہب بنا ہوا ہے۔ اس دوران میں اسلام کے پھیلنے کے اگر کچھ واقعات ہیں تو وہ اسلام کی اپنی قوت کی بدولت ظہور میں آئے ہیں۔ اسلام کے نام لیواؤں کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ الا ماشاء اللہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے مذاہب صرف مذہبی فرقہ بندی کی بدعت تک محدود رہے ۔ جب کہ اسلام کے نام لیوا اس سے آگے بڑھ کر سیاسی فرقہ بندی کی شدید ترین برائی میں گرفتار ہو گئے۔ عام طرز کی فرقہ بندی کی زیادہ سے زیادہ مذہبی اختلافات پیدا کرتی ہے۔ مگر سیاسی فرقہ بندی وہ بری بلا ہے جو دو فریقوں کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بناتی ہے۔ وہ مناظرانہ بحثوں کو تلوار اور بندوق کی لڑائی بنا دیتی ہے۔ سیاسی فرقہ بندی میں صرف دو ہفتے فرق ایک دوسرے سے نہیں الجھتے بلکہ یہ ایک نہتے گروہ کے ساتھ وقت کے اقتدار کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہترین طاقتیں اور صلاحیتیں سیاست کے مقتل میں ذبح کر دی جاتی ہیں۔ دعوت و تبلیغ کا عمل مسلمانوں کی طاقت کو غیر اقوام کی طرف لگاتا ہے۔ جب کہ "اسلامی سیاست کا افسرہ مسلمانوں کو خود مسلمانوں کے خلاف دست و گریبان کر دیتا ہے ۔ مسلمان دو طبقوں کے اقتدار اور با اقتدار) میں بٹ کر ایک دوسرے کو فنا کر دینے پر تل جاتے ہیں۔ اس کی نوبت ہی نہیں آتی کہ وہ متحد ہو کر خدا کے دین کی توسیع و اشاعت کا کوئی مؤثر کام کر سکیں۔ سیاسی فرقہ بندی کا پہلا واقعہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد شیعیت کا ظہور ہے۔ اسلام سے پہلے تمام معلوم زمانوں سے یہ سیاسی رواج چلا آ رہا تھا کہ بادشاہ کا بیٹا بادشاہ ہوتا تھا۔ حکومت ساری دنیا میں ایک وراثتی حق سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار اس طریقہ کو ختم کر کے شورائی حکمرانی (شوری - ۳۸) کے طریقہ کا اعلان کیا۔ مگر سب سے لوگ جو اسلام میں داخل ہونے کے باوجود، زمانی افکار سے آزاد نہ ہو سکے تھے، اس تبدیلی کو قبول نہ کر سکے اور پیغمبر اسلام کے بعد آپ کے خاندان میں خلافت کو جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ چونکہ پیغمبر کا کوئی بیٹا نہ تھا، اس لئے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page