اصلاحی و تجدیدی کوششیں
الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲
کے ساتھ مرو) الفاظ بدل کر اس وہر کے تمام سسی لیڈروں کا نعرہ یہی تھا کہ کروڑوں لوگوں نے اجنبی اقتدار سے رہائی حاصل کرنے کے نام پر اپنی جانیں دے دیں اور کھربوں روپے کے نقصانات کو برداشت کیا۔ آج یہ جد و جہد اپنے مقررہ نشانہ کے مطابق تقریباً تمام ملکوں میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مگر چہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ جس چیز نے مغربی استعمار سے آزادی کی جد و جہد کو کامیاب بنایا یا وہ بڑی حد تک خود مستعمرین کی با ہمی لڑائیاں تھیں، جنزی طور پر جنگ عظیم اول اور زیادہ بڑے پیمانے پر جنگ عظیم ثانی تاہم آزادی کی تحریکوں کی کامیابی ان امیدوں کو پورا نہ کر سکی جن کے لئے انجزائر میں ۲۵ لاکھ اور ہندستان میں دو لاکھ مجاہدین نے اپنے کو قربان کر دیا تھا۔ مسلم قوموں پر مغربی قوموں کا غلبہ آج بھی بدستور باقی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ فوجی اور سیاسی معنوں میں تھا، اب اس نے اقتصادی اور صنعتی روپ اختیار کر لیا ہے یہ دوسرا غلبہ اتنا شدید ہے کہ مسلم ملکوں کی سیاسی پالیسیاں بھی حقیقی معنوں میں آزاد پالیسیاں نہیں ہیں۔ وہ عملاً انہیں مغربی قوموں کے ہاتھ میں ہیں جن سے ہتھیار خرید کر وہ اپنا دفاع کرتے ہیں، جن کی ٹیکنیکل امداد سے وہ اپنے تمدنی شعبوں کو چلا رہے ہیں۔ ان کے اثرات اب بھی اتنے گہرے ہیں کہ وہ جب چاہیں احمد و بلو بلو(1966) یا شاہ فیصل فیصل(1975)کو کو قتل کرا دیں۔ اردن (۱۹۷۱) اور شام (۱۹۷۶) کے ہاتھوں فلسطینی تحریک کو کچل ڈالیں۔ ایران کے عوامی انقلاب (۱۹۷۱) کو ناکام بنا دیں۔ مصر کو اپنے اس دشمن سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیں جس کے بارے میں جمال عبد الناصر نے فخر یہ کہا تھا: «نحن ابناء الفراعنة سنریکم فی البحر ہم فرعونوں کی اولاد ہیں، ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) وغیرہ۔ ۲۔ تحفظ کی تحریکوں نے عام طور پر تعلیم دین کا رخ اختیار کیا مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴- ۱۸۵۷) نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں اپنی تقریر میں کہا تھا: ” دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں، آگے بڑھیں، ہماری ترقی یہ ہے کہ ہم پیچھے بیٹھیں، پیچھے بیٹھیں ۔ یہاں تک کہ دور نبوت سے جا ملیں " اس ذہن کے تحت تمام ملکوں میں بے شمار مدارس قائم کئے گئے۔ ان مدارس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم نسلوں کو عربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم دی جائے اور ان کو، کم از کم ذہنی حیثیت سے دور نبوت تک پہنچا دیا جائے۔ توقع یہ تھی کہ جو لوگ ان مدارس میں تربیت پا کر نکلیں گے، وہ زمانہ کے اثرات سے اپنے کو بچانے کے لائق بن سکیں گے۔
یہ تحریک ان معنوں میں پوری طرح کامیاب رہی کہ اس نے ساری مسلم دنیا میں دینی مدرسوں کا جال بچھا دیا اور کوئی بستی ایسی نہ رہی جو ان درس گاہوں میں تعلیم پائے ہوئے علما رو فضلا ر سے خالی ہو۔ مگر جہاں تک اسلامی ذہن اندر اسلامی طرز فکر کا سوال ہے، ان مدارس کی کامیابی صد درجہ مشکوک ہے۔ ان مدارس سے فراغت کے بعد جن خوش نصیبوں کو خودان مدارس یا ان سے ملتے جلتے کسی ادارہ میں جگہ مل گئی، انھوں نے بلاشبہ مدرسہ کے دیئے ہوئے ظاہری لبادہ کو باقی رکھا کیونکہ ان اداروں میں قیام و ترقی کے لئے یہی لبادہ ان کی قیمت تھی۔ مگر جن لوگوں کے حالات انھیں ان اداروں سے باہر لے گئے ۔ دو کسی بھی معنی میں غیر دینی مدارس کے فارغین سے مختلف ثابت نہ ہو سکے ۔ کیریزم (CAREERISM) ان کا دین بھی رہا اور ان کا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues