Al-Risala · June 1978 · page 47

پہلا قدم : اسلامی درس گاہ

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۴۷

ہیں کہ ذہن کو جمود اور لایعنی موشگافیوں کا عادی بنانے کے سوا کوئی دوسری خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اسلامی مدرسہ کی فضا کو اللہ کی بڑائی کے چرچے سے معمور رہنا چاہئے۔ مگر ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے زوال کی جس سطح پر ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے کچھ زندہ یا مردہ اکابر بنالیے ہیں اور مدرسہ کی تمام سرگرمیاں بس، انھیں بزرگوں کی کبریائی کا سبق دینے کے لئے وقف رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ یہاں لوگوں کو ایمانی حرارت کا سبق ملے، یہاں اعلیٰ انسانی کردار ڈھلیں۔ یہاں خدا و آخرت کی تڑپ رکھنے والے لوگ پیدا ہوں، یہاں سے اسلام کا وہ سیلاب اٹھے جو دور اول کے مدرسوں سے اٹھا تھا اور ایک عالم پر چھا گیا تھا۔

چڑیا گھر میں لوگ ہنسی خوشی گھوم رہے ہیں۔ اچانک ذمہ داروں کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ ایک شیر کٹہرے سے باہر آگیا ہے۔ اس وقت اس خبر کو جاننے کے معنے کیا ہوں گے صرف ایک : جلد سے جلد بھاگ کر شیر سے بچنے کی کوشش کرنا۔ اس خبر کا علم ہوتے ہی چڑیا گھر کی تمام سرگرمیاں شیر کے مسئلہ کے گرد سمٹ آئیں گی۔ شیر کا علم اور شیر کا خوف، دونوں اس وقت ہم معنی الفاظ بن جائیں گے۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی تعلیم کا مطلب کیا ہے۔ دینی تعلیم کا مقصد بندے کو اس کے خدا سے متعارف کرنا ہے۔ انسانی شعور کو تربیت دے کر اس سطح پر لانا ہے جہاں وہ اپنے خالق اور مالک کو جان سکے اور اس کے ساتھ وہ تعلق قائم کرے جو حقیقت واقعہ کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ یہ آگہی اگر کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ وہی واقعہ بدرجہ نہایت شدت کے ساتھ ظہور میں آئے گا جو شیر کے چھوٹنے کی خبر سن کر چڑیا گھر کے ٹرین میں ہوتا ہے۔ شیر کا خالق شیر سے بھی زیادہ طاقت ورہے۔ ہم شیر کو گولی مار سکتے ہیں کسی بند مکان میں گھس کر شیر سے بچ سکتے ہیں۔ مگر رب العالمین کی پکڑ سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے حقیقی دینی تعلیم جس ماحول میں وجود میں آجائے، وہ خوف خدا کا ماحول بن جائے گا۔ خدا کا علم اور خدا کا خوف دونوں ہم معنی الفاظ بن جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس تعلیمی ادارہ میں خوف خدا کی فضا پیدا نہ ہو، وہ اور جو کچھ بھی ہو، دینی تعلیم کا ادارہ نہیں ہوسکتا۔ قرآن کی رو سے عالم وہی ہے جو خدا سے ڈرنے والا ہو:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰؤُ (فاطر - ۲۸) اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

اعلمكم بالله اشدكم له خشية (تغیر نسفی ) تم میں سب سے زیادہ عالم وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہے۔

یہاں اس سلسلہ میں چند مزید اقوال نقل کئے جاتے ہیں :

ابن مسعود: ليس العلم بكثرة الرواية إنما العلم خشية الله علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے۔ علم نام ہے اللہ سے خوف کا جامع بيان العلم وفضله - جزء ثانی ، صفحه ۲۵ مجاہد : الفقيه من خاف الله (۴۹) فقیہ وہ ہے جو اللہ سے ڈرے عطا ء: من خشى الله فهو عالم (۴۹) جو اللہ سے ڈرے وہی عالم ہے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page