Al-Risala · June 1978 · page 48

پہلا مرحلہ : عربی زبان اور قرآن

الرسالہ، جون ۱۹۷۸، صفحہ ۴۸

حسن بصری : العالم من خشی الرحمٰن بالغیب (تفسیر ابن کثیر) عالم وہ ہے جو دیکھے بغیر اور سے ڈرے موجودہ اسلامی درس گاہوں کو اس معیار جانچا جائے تو وہ اس کیفیت سے بالکل خالی نظر آئیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مدرسوں اور دارالعلوموں کی بنیاد " خوف خدا " پر رکھی ہی نہیں گئی۔ ان کا مقصد بعض " فنون" کی تعلیم ہے اور ان فنون کے علمابہر حال ان اداروں سے کثیر تعداد میں نکل رہے ہیں۔ اپنے تاسیسی مقصد کے اعتبار سے ممکن ہے وہ ناکام نہ ہوں۔ مگر حقیقی علم دین پیدا کرنے کے اعتبار سے بلاشبہ وہ مکمل طور پر وہ ناکام ہیں۔ امام مالک کا قول ہے : لن یصلح آخرھان الامۃ الا بما صلح بہ اولھا ( اس امت کے آخر کی اصلاح بھی اسی طریقہ کی پیروی سے ہوگی جس سے امت کے اول کی اصلاح ہوئی تھی ) یہ قول موجودہ حالات کے لئے مکمل طور پر صادق آتا ہے۔ اس امت کے ابتدائی حصہ کے اندر جو زندگی اور انقلاب آیا تھا۔ وہ قرآن اور رسول کے ذریعہ آیا تھا۔ آج بھی قرآن اور رسول کی سنت کو بنیاد بنا کر دوبارہ امت کے اندر انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ آج اسلام کے احیاء کے لئے بہترین قابل عمل آغاز یہ ہے کہ قدیم طرز کی درس گاہیں قائم کی جائیں جن میں تعلیم کی بنیاد قرآن اللہ سیرت ہو نہ کہ بعد کے پیدا شدہ فنون۔

ضرورت ہے کہ دوبارہ دور اول کے طرز کے مدرسے قائم ہوں اور ان کو بنیاد بنا کر اصلاح امت کا کام کیا جائے ۔ ان مدارس کا نصاب بالکل سادہ اور غیر فنی ہونا چاہئے ۔ موجودہ حالات کے لحاظ سے ہم اس کو چار مرحلوں پر تقسیم کرسکتے ہیں :

پہلا مرحلہ : عربی زبان اور قرآن

دوسرا مرحلہ : حدیث، سیرت رسول، حالات صحابہ، اسلامی تاریخ وغیرہ (عربی زبان میں)

تیسرا مرحلہ: عالمی زبانیں، دیگر مذاہب اور ان کی تاریخ ۔ فلسفہ جدید، ضروری سائنسی معلومات چوتھا مرحلہ: اختصاصی مطالعہ کسی ایک اسلامی موضوع پر (عربی میں ایک مقالہ تیار کرنا ) اس قسم کا ایک مدرسہ اعلیٰ معیار پر قائم ہو جائے تو بلاشبہ وہ دور جدید کا سب سے بڑا کام ہوگا ۔ اس طریق تعلیم کے لئے ہم کو نئی نصابی کتا بیں وضع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قدیم عربی کتابوں کے ذخیرے سے بآسانی ایسی کتابیں منتخب کی جاسکتی ہیں جو مطلوبہ ضرورت کو پورا کرنے والی ہوں ۔ جہاں تک دیگر زبانیں اور سیکولر علوم کا تعلق ہے ، ان کے لئے بھی ہم کو اپنی الگ کتابیں تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ دوسروں نے ان موضوعات پر جو کتابیں تیار کی ہیں ، ان کا ایک انتخاب بخوبی طور پر ہماری اس ضرورت کو پورا کر سکتا ہے ۔ البتہ اساتذہ کی فراہمی ایک مشکل کام ہوگا۔ تاہم اگر قریحی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر دیکھا جائے تو اساتذہ کی فراہمی کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے ۔ صرف اس اہتمام کے ساتھ کہ ان کو حسب لیاقت معاوضہ دینے کا انتظام ہو ، اور ان کے ساتھ وسعت ظرف کا معاملہ کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1978 All issues

Printed page