Al-Risala · January 1978 · page 30

اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۰

"اہل بیت رسول" کی اصطلاح وضع ہوئی۔ تا کہ بیٹے کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے لئے اس کا استحقاق ثابت کیا جا سکے۔

اس تحریک کو جب کامیابی نہیں ہوئی تو انھوں نے دوسری شدید غلطی کی۔ جو چیز ابتداءً محض ایک سیاسی نظریہ کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو انھوں نے ایک باقاعدہ مذہبی عقیدہ بنا ڈالا۔ حتیٰ کہ اس کو نجات کا دار و مدار قرار دے دیا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ جس چیز کو مذہبی عقیدہ کی حیثیت دے دی جائے، چاہے وہ بذات خود کتنی ہی اصل کیوں نہ ہو، بالآخر وہ مقدس بن جاتی ہے اور پھر اس کو ختم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی شیعہ عقیدہ کے ساتھ ہوا۔ یہ عقیدہ مقدس بن کر ہزاروں لوگوں کے ذہنوں پر چھا گیا اور اس کے لئے سب کچھ کرنا عین جائز قرار پایا۔ اسلام کی اب تک کی تاریخ میں جتنے بڑے بڑے حادثات گزرے ہیں، ان میں کسی نہ کسی طور پر اس عقیدہ کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔ اس عقیدہ نے مسلمانوں کو ایک دائمی قسم کی خانہ جنگی میں مبتلا کر دیا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ شیعہ گروہ تاریخ کے ہر دور میں مسلم معاشرہ کے اندر منفی کردار ادا کرتا رہا ہے؛ آغازِ اسلام میں خلافت کے جھگڑوں سے لے کر اب تک مشکل کوئی ایسا مسلم المیہ ملے گا جس میں بالواسطہ یا براہِ راست طور پر اس کی کار فرمائی شامل نہ ہو۔

ان باہمی اختلافات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں کی وہ طاقت جو اسلام کی اشاعت و توسیع میں لگتی، وہ آپس کی لڑائیوں میں برباد ہو گئی۔ مثال کے طور پر صفین و جمل کی لڑائیوں (۳۷- ۳۶ھ) اور حسین و یزید کی جنگ (۶۱ھ) میں جو تقریباً ایک لاکھ مسلمان کٹ گئے، وہ اتنے طاقت ور تھے کہ یورپ کی آخری سرحدوں تک اسلام کو پہنچانے کے لئے کافی تھے۔ مگر یہ انتہائی قیمتی گروہ خود اپنے بھائیوں کی تلواروں سے ذبح ہو گیا۔ ایک "تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔

قدیم زمانہ میں سیاست کو عقیدہ بنانے کا رواج غیر اہل بیت کے اقتدار کے مقابلہ میں اہل بیت کے اقتدار کو ثابت کرنے کے لئے ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ میں یہی بدعت نئی شکل میں دہرائی گئی ہے۔ یہ واقعہ ہمارے قائدین کے باسی جوش میں کوئی کمی نہ کر سکا کہ سیاست نے موجودہ زمانہ میں وہ معنویت کھو دی ہے جو قدیم زمانہ میں اسے حاصل تھی۔ پچھلی صدیوں میں اجتماعی معاملات کی نوعیت بے حد بدل گئی ہے۔ قدیم زمانے میں سیاسی انقلاب بجائے خود "انقلاب" کے ہم معنی ہوتا تھا۔ آج سیاسی انقلاب صرف ایک ٹبرونگ ہے، اگر اس کے ساتھ دوسری غیر سیاسی قوتیں اس کی مدد کے لئے جمع نہ کی گئی ہوں۔

اولاً انیسویں صدی کے آغاز میں اس فکر کا ظہور ہوا جب کہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں سے مغربی استعمار کو ختم کرنے اور مسلم اقتدار کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے اس کو بطور شرعی دلیل کے پیش کیا گیا ۔ یہ استعمار مسلمانوں کو تعلیم و ترقی اور تبلیغ و دعوت کے میدان میں ہر قسم کے مواقع دے رہا تھا۔ ایک انگریز پروفیسر ٹامسن آرنلڈ (۱۹۳۱ء) نے پریچنگ آف اسلام کے نام سے اس زمانہ میں ایک انتہائی قیمتی کتاب لکھی۔ اس کتاب میں یہ عظیم تاریخی رہنمائی تھی کہ مبادا،

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page