الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲
بسم الله الرحمن الرحيم
الرساله کوئی صحافتی کاروبار نہیں۔ وہ صرف اس بات کی چیتاونی ہے کہ لوگو، ہوشیار ہو جاؤ کیونکہ وہ وقت بہت تیزی سے دوڑا چلا آرہا ہے جبکہ سارے لوگ رب الالمین کے سامنے کھڑے کر دیئے جائیں گے۔ کسی کے لئے نہ کچھ بحث کا موقع ہوگا اور نہ مٹ دھرمی کا۔ یہ سنت یوسفی نہیں قرآن میں سابق اہل کتاب کی جن عادتوں کا ذکر ہے، ان میں سے ایک یہ ہے :
" ان کا ایک گروہ (علماؤ قائدین ) کتاب میں زبان کو موڑتا ہے تاکہ تم ان کی کہی ہوئی بات کو خدا کی بات ہر آدمی مجبور ہوگا کہ وہ سچائی کے آگے اپنی گردن جھکا دے۔ قبل اس کے کہ یہ وقت آئے، بہترین عقلمندی یہ ہے کہ ہم آج ہی سچائی کے آگے جھک جائیں، کیوں کہ کل کا جھکنا رسوائی ہے اور آج کا جھکنا عزت ۔ ایسی حالت میں ہم سے زیادہ نادان اور کوئی نہ ہوگا اگر ہم اپنے خلاف تنقیدوں پر غور نہ کریں۔ مگر یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ان تنقیدوں میں یا تو لفظی شور و غل ہے یا غیر متعلق بحثیں۔ کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ دو میں سے کوئی ایک ہی رویہ ان کے لئے صحیح ہے: علمی رد یا علمی اعتراف۔ بے معنی بحثیں کسی کو دنیا میں بچانے والی بن سکتی ہیں مگر آخرت میں وہ کسی کو بچانے والی ثابت نہ ہو سکیں گی۔ خواہ اپنے طور پر وہ کتنی ہی خوش فہمی میں مبتلا رہے زندگی کی سب سے زیادہ سنگین حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر بات خواہ وہ بظاہر ایک انسان کے سامنے ہو، حقیقۃً وہ خدا کے سامنے ہوتی ہے۔ کیونکہ آخری طور پر ہر آدمی کو خدا ہی کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ کوئی بات اپنے منہ سے نکالنے سے پہلے اس کو انصاف کے ترازو پر تول لیجئے ۔ اگر آج آپ نے ایسا نہ کیا تو کل کے دن خدا اس کو انصاف کے ترازو پر تو لے گا اور اس جانو ۔ حالانکہ وہ خدا کی کتاب سے نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کی جانب سے نہیں۔ وہ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں (آل عمران ۷۸)
زبان کو مروڑ کر بات کرنا (لیلسان) سے کچھ لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ زبان کی گردش سے الفاظ کو بدل دیا جائے۔ جزوی طور پر یہ مفہوم بھی اس میں شامل ہے ۔ مگر اس کا اصل مفہوم تحریف معنوی ہے۔ (لوی لسانه بكنا كناية عن الكذب وتخرص الحديث، راغب)
مثلاً اپنے کسی غلط عمل کے ساتھ کتاب اللہ میں لفظی اشتراک ڈھونڈ کر یہ کہنا کہ یہ عمل فلاں حکم الٰہی کے مطابق ہے یا اس سے لیا گیا ہے ۔ شیخ محمد عبدہ مصری نے کہا ہے کہ یہ بھی لی لسان کی ایک مثال ہے کہ حضرت مسیح ع نے اپنے مخاطبین کو سمجھانے کے لئے مجازی طور پر خدا اور بندہ کے لئے اب اور ابن (باپ اور بیٹے) کے الفاظ استعمال کئے ۔ بعد کو مسیحی علماء نے اس کو حقیقی طور پر لے لیا اور اس لفظی مشابہت سے فائدہ اٹھا کر گمراہی کی پوری عمارت کھڑی کر دی۔ توحید کی دعوت سے شرک کا عقیدہ نکال لیا۔
کو خدا کے یہاں تولا گیا اس کے لئے ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں (من نوقش فقد هلک)
کتاب میں زبان کو موڑنے کا مطلب کتاب کے الفاظ کو موڑنا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ لی لسان سے مراد تقریبا وہی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues