Al-Risala · July 1978 · page 24

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۴

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۴

چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں غلط تعبیر (Misinterpretation) کہا جاتا ہے۔ یہ فعل اگر جان بوجھ کر ہو تو اللہ کے نزدیک وہ بدترین جرم ہے ۔ بننے کے جرم میں۔ حکمرانوں سے سیاسی منازعت چھیڑنا اور نتیجہ * مسلمانوں کا دو دھڑوں میں بٹ جانا تو اسلام میں صریح طور پر ممنوع ہے اس قسم کی غیر اسلامی سیاست کے تاہم جس طرح ہر فعل کے درجات ہیں، اسی طرح اس فعل کے بھی بہت سے درجے ہیں کچھ با حوصلہ مسلمان "محمدی سیاست‘‘ کا نعرہ لے کر اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے لڑ جاتے ہیں اور ان کو اقتدار سے بے دخل (Unseat) کرنے کی تحریک چلاتے ہیں، اس کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے۔ حکمران طبقہ اپنے سیاسی حریفوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیتا ہے۔ اس کے بعد محمدی تحریک کے قائدین اپنی سالانہ ’’روداد جہاد‘‘ شائع کرتے ہیں جس میں فخر کے ساتھ یہ الفاظ درج ہوتے ہیں :

’’ہماری تحریک کے مرکزی، صوبائی اور ضلع کی سطح کے عہدہ داروں میں سے شاید ہی کوئی شخص سنت یوسفی ادا کرنے سے محروم رہا ہو۔ ‘‘ اس قسم کی قید کو ’’سنت یوسفی‘‘ کا نام دینا بھی لسان کی یک قسم ہے۔ حضرت یوسفؑ بلاشبہ جیل میں ڈالے گئے جس طرح محمدی سیاست کے مجاہدین جیل میں ڈالے گئے۔ مگر دونوں میں لفظی اشتراک کے سوا اور کوئی نسبت نہیں۔ حضرت یوسفؑ کے جیل جانے کی وجہ یہ نہ تھی کہ انھوں نے اپنے وقت کے حکمران کے خلاف اپوزیشن پارٹی بنائی تھی اور اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی پر شور تحریک چلا رہے تھے اور حکمران اپنے سیاسی حریف کو میدان سے ہٹانے کے لئے آپ کو جیل میں ڈال دیا۔ ان کی وجہ مکمل طور پر غیر سیاسی تھی۔ حضرت یوسفؑ ایک طرفہ کارروائی کے تحت جیل بھیجے گئے تھے نہ کہ سیاسی حریف نتیجہ میں جیل جاتا اور اسی کو سنت یوسفی کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے جو شریعت میں حرام ہے اور اس کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کر کے اپنے اخبار کے صفحہ اول میں یہ اعلان کرے :

"مقتول کی نماز جنازہ شرعی طریقہ پر ادا کی گئی۔ “ یہی وہ چیز ہے جس کی بابت قرآن میں کہا گیا: کیا تم کتاب الہی کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور اس کے دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو (بقرہ (۸۵) مسلمانوں میں سیاسی دھڑے بندی پیدا کرنا جو پیغمبرانہ شریعت کے خلاف ہے اور جب طاقت ور فریق اپنے مخالف فریق کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دے تو اس کو اپنے لئے پیغمبرانہ سنت قرار دینا ۔ یہ طریقہ خدا کے غضب کو بھڑ کانے والا ہے نہ یہ کہ اس کے نتیجہ میں خدا کی رحمت ہمارے اوپر سایہ کرے ۔

پختگی اس صلاحیت کا نام ہے کہ آدمی ان چیزوں کے ساتھ پرامن طور پر رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔

پختگی انکساری کا نام ہے ۔ ایک پختہ انسان یہ کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے کہ ”میں غلطی پر تھا"

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page