اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۱
اقتدار کے بغیر اسلام اپنی دعوتی قوت سے ملکوں اور قوموں کو فتح کر سکتا ہے۔ مگر اس قسم کے باتوں سے مسلمانوں کو کوئی دل چسپی نہ ہو سکتی۔ کیوں کہ جس سیاسی نظام کا وجود ہی سرے سے حرام ہو اس کے تحت "آدمی پوری مذہبی زندگی" کا سودا کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری نہ رہا کہ ہمارا سیاسی پروگرام دنیوی اعتبار سے نتیجہ خیز ہو۔ اب وہ مقدس جہاد تھا جو افضل العبادات ہے اور جس کی راہ پیس اپنے کو مٹادینا بجائے خود کاموںیابی ہے۔ کیوں کہ وہ سیدھے جنت تک پہنچاتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال تک بے شمار لوگ "استعمار" سے لڑ لڑ کر انتہائی بے فائدہ طور پر اپنی جان و مال کو برباد کرتے رہے۔
یہ سیاسی جہاد صرف اجنبی حکمرانوں تک محدود نہ تھا۔ سلطان عبد الحمید ثانی اور شاہ فاروق (۱۹۶۵-۱۹۲۰) جیسے مسلم حکمران بھی اسی سیاہ فہرست میں داخل تھے۔ کیوں کہ وہ مغربی مستعمرین کے ایجنٹ" بنے ہوئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی (۱۸۹۷- کو ایران، مصر اور ترکی کے حکمران زبردست مواقع دے رہے تھے کہ وہ دعوتی اور تعلیمی میدان میں اسلام کی تعمیر کا کام کریں۔ مگر ان کی مجاہدانہ سیاست کو اس قسم کے کام حقیر معلوم ہوئے۔ وہ ان مواقع کو چھوڑ کر خود ان حکمرانوں کو تخت سے ہٹانے کے منصوبے بنانے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ حکمران طبقہ سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔ وہ ہر ملک سے نکالے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ ترکی کے قید خانہ میں مر گئے ۔ یہی المناک کہانی موجودہ زمانہ میں مسلم ملکوں کے بادشاہوں اور مصلحین کے درمیان مسلسل دہرائی جاتی رہی ہے۔ بیسویں صدی میں مسلم ممالک ، کم از کم سیاسی معنوں میں ، اجنبی اقتدار سے آزاد ہو چکے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی باہمی سیاسی لڑائیاں اب بھی ختم نہیں ہوئیں۔ بلکہ اس نے نظریاتی صورت اختیار کر کے مزید شدت پکڑ لی ہے اب اس کا عنوان ہے : اسلامی قانون کا نفاذ یا حکومت الہیہ کا قیام ۔ جس ملک میں بھی چیخ پکار کرنے یا احتجاجی سیاست چلانے کے مواقع ہیں، وہاں ہمارے مصلحین اور قائدین اسلامی قانون کا جھنڈ ا لیے ہوئے اپنی قومی حکومتوں سے ٹکرا رہے ہیں اور پوری قوم کو ایک لامتناہی جنگ میں الجھائے ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا کے عبد القہار مذکر (۱۹۶۲- ۱۹۰۳) کو سابق صدر سوہیکار نو ہر قسم کے اصلاحی کام کے مواقع دے رہے تھے۔ مگر وہ دستور اسلامی کے نفاذ کے نام پر لڑ لڑ کر ختم ہو گئے ۔ مصر کے سید قطب (۱۹۶۶- کو سابق صدر جمال عبدالناصر نے اسلامی تعلیم و ترقی کے کام کے لئے حکومتی تعاون کی پیش کش کی۔ مگر وہ اور ان کی پوری جماعت صدر ناصر کی معزولی سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے ان کو میں ڈالا۔ پاکستان کے سید ابوالاعلیٰ مودودی - ۱۹۰۳) کو پاکستان کے حکمرانوں نے دعوتی اور تعمیری کاموں کے لئے ہر قسم کا تعاون دینا چاہا۔ مگر ان کے نزدیک سب سے بڑا کام " بے دین حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنا تھا تاکہ پاکستان میں اسلام کی دیوانی اور فوجداری قانون کو نافذ کیا جاسکے اس مقصد کے لئے وہ اور ان کی پوری جماعت اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے ٹکراتے رہے۔ ان بے فائدہ قسم کی لڑائیوں کا یہ فائدہ تو نہیں ہوا کہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم ہو جاتا۔ البتہ اس اکیٹھ پھاڑ میں پاکستان کے بہترین امکانات برباد ہو گئے، حتی کہ خود اسلامی تحریک کے سیاسی امکانات بھی۔ کیوں کہ اسلامی حکومت محض مطالبات اور ایجی ٹیشن
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues