Al-Risala · July 1978 · page 17

مسلمان آسٹریلیا میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷

مسلمان آسٹریلیا میں

١٨٦٠ء میں ایک مسلمان آسٹریلیا میں داخل ہوا تھا۔ آج آسٹریلیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔ ملک میں جگہ جگہ نئی نئی مسجدیں بن رہی ہیں۔ ابتدا میں جو مسلمان آسٹریلیا پہنچے وہ شتربان CAMEL DRIVER تھے جو اونٹوں کی نگہداشت اور ساربانی کے لئے یہاں لائے گئے تھے۔ ۱۰۰ سال سے زیادہ عرصہ تک مسلمان اسی حیثیت سے آسٹریلیا میں رہے۔

پہلا مسلمان شخص جو آسٹریلیا پہنچا، اس کا نام دوست محمد تھا۔ وہ ایک کشمیری پٹھان تھا۔ اس کے ساتھ ۲۴ اونٹوں کا قافلہ ہوتا تھا اور وہ ملبورن اور برک کے درمیان اونٹوں کے ذریعہ سواری اور باربرداری کا کام کیا کرتا تھا۔ 1866 میں سرٹامس ایلڈر نے ۱۲۰ اونٹوں کا قافلہ بنایا۔ اس کو ساربانوں کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس نے کراچی سے 12سار بانوں کو بلایا۔ اسی طرح افغانستان، ہندوستان اور موجودہ پاکستان سے ساربانی کے کام کے لئے مسلمان آسٹریلیا پہنچتے رہے۔ آسٹریلیا کے لوگ ان مسلمانوں کو عام طور پر " افغان " کہتے تھے جو مختصر ہوتے ہوتے بالآخر صرف غان (GHANS) رہ گیا۔ اونٹوں کے ذریعہ سواری اور باربرداری کا کام اتنا بڑھا کہ ایک باریک وقت پانچ سو اونٹ باہر سے منگوائے گئے۔ یہ ساربان اپنے مخصوص پیشہ کے ساتھ بعض معمولی تجارتی کام بھی آسٹریلیا میں کرتے تھے۔

اونٹوں کے قافلے زیادہ تر ایڈلیڈ، فارینا، ماری اوڈنا ڈٹا اور الائس کے راستوں پر چلتے تھے۔ اس پورے راستہ میں ان لوگوں نے جگہ جگہ عبادت کے مسجدیں بنا لیں ۔ اسی طرح دوسرے جن راستوں پر وہ چلتے تھے، وہاں وہ مسجد بھی بنا لیتے تھے۔ یہ لوگ ہمیشہ اپنے ساتھ چٹائیاں بھی رکھتے اور جہاں مسجد نہ ہوتی ، راستہ کے کنارے چٹائی بچھا کر نماز پڑھ لیتے ۔ ۱۸۷۰ء کے بعد آسٹریلیا کے صحراؤں میں ریلوے لائن کا منصوبہ بنا اور بالآخر ٹرانس آسٹریلیا ریلوے وجود میں آئی۔ اس ریلوے لائن کے لئے سردے کا جو کام برسہا برس تک ہوتا رہا، اس میں مسلم ساربانوں کے اونٹ بہت کارآمد ثابت ہوئے۔ ان اونٹوں کے ذریعہ آسٹریلیا کا بڑا حصہ صحرا ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں جب کہ یہاں ریلوے لائن نہیں تھی، صحرائی جہاز (اونٹ) یہاں کے راستوں کو طے کرنے کے لئے بہت مفید سمجھے گئے۔ صحرائی براعظم کی اس ضرورت نے مسلمانوں کو آسٹریلیا میں روزگار فراہم کئے ۔ مگر جب آسٹریلیا میں ریلوے لائن بچھ گئی تو اس کے بعد مسلمانوں کے لئے وہاں کوئی روزگار نہ رہا۔ روایتی ماحول میں اونٹوں کی تکمیل تھامنے کا کام تھا اور مسلمان اس کی بخوبی مہارت رکھتے تھے۔ غیر روایتی ماحول میں مشینوں کا ہینڈل پکڑنا تھا، مسلمان اپنے کو اس کا اہل ثابت نہ کرسکے ۔ قدیم دنیا میں جو لوگ انسانی قافلوں کے آگے چلتے تھے، جدید دنیا میں وہ صرف پیچھے چلنے والے ہو کر رہ گئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page