Al-Risala · July 1978 · page 18

مسلمان آسٹریلیا میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸

سرکاری کارکن اور سامان صحراؤں میں سفر کرتے تھے۔ مگر جب ریلوے لائن بن گئی تو یہی ریلوے تھی جس نے آسٹریلیا میں اونٹوں کو اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو بے جگہ کر دیا۔ اس کے بعد یہ کاروبار ختم ہونے لگا۔ مسلمان آسٹریلیا سے رخصت ہونے لگے۔ آدرمان خاں آخری مسلمان تھاجو 1950میں آسٹریلیا کو چھوڑ کر اپنے وطن کراچی واپس آگیا۔ اس نے تقریباً ۵۰ سال آسٹریلیا میں گزارے۔

پھر بھی بعض خوش قسمت مسلمانوں کو آسٹریلیا میں روزگار ملتا رہا۔ مثلاً 1975 میں آسٹریلیا کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ چار اونٹ شاہ خالد (سعودی عرب) کی خدمت میں پیش کرے۔ اس کے لئے حکومت نے محمد عالم اور صالح محمد کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے سمپسن صحراؤں سے چار جنگلی اونٹ پکڑے اور ان کو تربیت دے کر اس قابل بنایا کہ وہ سعودی حکمراں کو بطور تحفہ پیش کئے جا سکیں ۔

مسلم ساربانوں کی خاص شاہراہ وہ تھی جو ایڈ یلیڈ سے الائس اسپرنگ کو جاتی ہے۔ اس راستہ پر اب جدید وضع کی ٹرینیں دوڑتی ہیں۔ تاہم قدیم " افغانی ساربانوں" کے نام پر اس کا نام غان (THE GHAN) رکھا گیا ہے۔ اس قسم کی اور بھی یادگاریں ہیں۔ ایڈ یلیڈ میں " افغانوں" نے ۱۸۸۹ء میں ایک مسجد بنائی تھی۔ اس علاقہ میں اب اگرچہ مسلمان نہیں ہیں۔ مگر بروکن ہل ہسٹا ریکل سوسائٹی نے ۱۱۵ سال بعد بھی اب تک اس کو محفوظ رکھا ہے۔ اب مسجد کے ساتھ جلد ہی " افغان میموریل ہال" ، حکومت کے اہتمام میں بننے والا ہے۔ یہ ہال اور اس قسم کی دوسری آسٹریلیا میں مساجد Tropic of Capricorn ALICE SPRINGS WA OODNADATTA MAREE FARINA BRISBANE SA NSW BROKEN HILL A BROKEN HILL ADELAIDE VIC MELBOURNE SHEPPARTON CANBERRA SYDNEY PORT KEMBLA TAS CS CamScanner PERTH ACOOLGARDIE

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page