اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲
سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لئے بے حد دور رس منصوبہ بندی درکار ہے اور محاذ آرائی کی فضا میں خاموش منصوبہ بندی کی سیاست سوچی بھی نہیں جاسکتی، اس کو چلانا تو درکنار۔
ہمارے مصلحین کے اس سیاسی ذوق کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اسلام، ہر مسلم ملک میں، بر سر اقتدار طبقہ کا سیاسی حریف بن کر رہ گیا ہے۔ وہ اسلام کو ٹھیک اسی نظر سے دیکھنے لگے ہیں جیسے امریکہ میں کمیونسٹ پارٹی کو دیکھا جاتا ہے۔ اسلام کے نام پر جب بھی کوئی دعوت اٹھتی ہے، وہ فوراً متوحش ہو جاتے ہیں۔ اسلام کا لفظ، موجودہ حالات میں، ان کے لئے حکمرانوں کو بے اقتدار (UNSEAT) کرنے کی تحریک کے ہم معنی بن گیا ہے۔ غیر اسلامی لوگوں کے ساتھ کام کرنے والوں کو وہ آزادی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر اسلام کے علم برداروں کو کام کے مواقع دینے پر راضی نہیں ہوتے کیونکہ موجودہ فضا میں اس کا مطلب، ان کے نزدیک یہ ہے کہ اپنے قتل کے کاغذات پر خود ہی دستخط ثبت کر دیئے جائیں۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کو دوبارہ سربلند کرنے کے سلسلے میں پہلا کام یہ ہے کہ اس فضا کو ختم کیا جائے، اسلام کو حکمرانوں کا سیاسی حریف بننے سے بچایا جائے تاکہ مسلم ملکوں کے وسائل اسلامی منصوبوں کے لئے حاصل ہوسکیں ۔ اور عالمی سطح پر اسلام کی دعوت واشاعت کی مہم چلائی جاسکے جس کا زمین و آسمان کو سیکڑوں برس سے انتظار ہے۔ انسانی اندازے کتنے غلط ہوتے ہیں ام عبداللہ نیت ابی حثمہ بیان کرتی ہیں کہ ہجرت حبشہ کے وقت وہ سفر کی تیاری کر رہی تھیں۔ عمر بن خطاب (جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے) ادھر سے گزرے۔ اس وقت تک وہ مسلمانوں کے اوپر ظلم کرنے میں انتہائی سخت تھے۔ عمر نے کہا: انہ للانبطلاق یا ام عبداللہ ! (اے ام عبداللہ کیا روانگی ہورہی ہے)۔ ام عبداللہ نے کہا: خدا کی قسم، ہاں، تم لوگ ہمارے اوپر مصیبت ڈال رہے ہو۔ ہم خدا کی زمین میں نکل جائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے لئے کوئی گنجائش پیدا کر دے۔ عمر نے یہ سن کر کہا: خدا تمہارا ساتھ دے صحبکم اللہ) یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں رقت طاری ہو گئی۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ اس کے بعد ام عبداللہ کے شوہر آئے جو کسی ضرورت سے باہر چلے گئے تھے۔ ام عبداللہ نے ان سے عمر کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائیں گے۔ ان کے شوہر نے کہا: لا يسلم هذا حتى يسلم حمار الخطاب یہ شخص اسلام قبول کرنے والا نہیں۔ یہاں تک کہ خطاب کا گدھا بھی مسلمان ہو جائے۔
مگر یہی عمر بن الخطاب اس کے تھوڑے دنوں بعد مسلمان ہو گئے اور انھوں نے اسلام کی نئی تاریخ بنائی۔ انسان اکثر اندازہ کرنے میں غلطی کرتا ہے۔ اگر چہ ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ اس کا اندازہ بالکل درست ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues