Al-Risala · July 1978 · page 20

مغربی دنیا میں اسلام

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰

کائنات میں ماورائے انسان ذہانت کے آثار مل رہے ہیں آج کل سائنسی حلقوں میں بالائے خلا ذہانت (Extraterrestrial Intelligence) کا بہت چرچا ہے۔ مختلف شعبوں میں ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زمین کے علاوہ خلا کے دوسرے حصوں میں بھی ذہین ہستیاں، اغلباً انسان سے زیادہ زمین موجود ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سے سائنس داں اس سنہری صبح کے منتظر ہیں جب کہ وہ خلائی ریڈیو کا پیغام (Extraterrestrial Radio Message) وصول کر سکیں گے۔ بالائے خلا ذہانت سے سائنس دانوں کی مراد یہ ہوتی ہے کہ زمین کے علاوہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی ہماری جیسی مخلوقات پائی جاتی ہیں۔ دو امریکی فلکیات دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں اربین ستارے ایسے ہیں جو نظام شمسی کی مانند سیاراتی نظام رکھتے ہیں۔ ان نظامات میں زندگی کا وجود اسی طرح ممکن ہے جس طرح موجودہ زمین پر۔ اگرچہ عملاً ابھی تک ایسا کوئی کرہ دریافت نہیں ہوا ہے جہاں زمین جیسی زندگیاں پائی جاتی ہوں۔ سائنسی دریافتوں کا قافلہ بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سائنس ماورائے انسان "ذہانت" تک پہنچ چکی ہے۔ اگر کسی دن وہ دریافت کرے کہ یہ ماورائے انسان ذہانت اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنی زیادہ ممتاز ہے کہ اس کو انسان جیسی ذہین ہستی کہنے کے بجائے خدا کہنا زیادہ صحیح ہوگا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ یہ داستانیں اکثر خواب دیکھنے لگی کہ کوئی شخص آتا ہے اور اس کے ہونے والے بچہ کے بارے میں عجیب عجیب باتیں بتاتا ہے۔ بالآخر اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ یہی وہ مشہور شاعر ہے جس کو دنیا عمروبن کلثوم کے نام سے جانتی ہے۔ تاریخ ادب کے ناقدین اس قصہ کو من گھڑت کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ قصہ عمروبن کلثوم کی شہرت کے بعد فرضی طور پر بنا لیا گیا ہے۔ مگر اسی قسم کے، اس سے زیادہ من گھڑت قصے "بزرگوں" کے بارے میں تصنیف کر لئے گئے ہیں اور ان کو لوگ اس طرح پڑھتے اور سنتے ہیں جیسے وہ وحی آسمانی ہو۔ جس چیز کے ساتھ تقدس کا عنصر شامل ہو جائے وہ ہر جانچ سے غذائیں کھلائی جائیں۔

بالا تر ہو جاتی ہے۔ بالکل بے اصل کہانیوں کو لوگ اس طرح ماننے لگتے ہیں جیسے وہ کوئی حقیقی تاریخ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page