مغربی دنیا میں اسلام
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱
ایک سفر
مارچ ۱۹۷۷ء کے آخر ریاست جموں و کشمیر کے سفر کا اتفاق ہوا۔ اس سلسلے میں جموں، راجوری اور تھنہ منڈی جانا ہوا۔ زیادہ قیام تھنہ منڈی میں رہا۔ یہاں کی جامع مسجد میں ایک تقریر ہوئی جس میں مقامی لوگوں کے علاوہ اطراف کی بستیوں سے آئے ہوئے لوگ بھی شریک تھے۔ تھنہ منڈی میں تین دن (۳۰-۳۱ مارچ) یکم اپریل گزرے۔ بستی کے بیشتر پڑھے لکھے لوگوں سے دینی امور پر گفتگو ہوتی رہی۔ مدرسہ کاشف العلوم (قائم شدہ ۱۹۷۱ء) کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا جو جامع مسجد سے ملحق ہے۔ چند مخلص اور باہمت لوگ اس کو ترقی دینے میں مصروف ہیں۔
تھنہ منڈی ایک قصبہ ہے جو جموں کے اس حصہ میں واقع ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اقتصادی پس ماندگی اور جہالت عام ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑی بیماری وہ جذباتیت ہے جس میں کشمیری مسلمانوں کو وافر حصہ ملا ہے۔ توہماتی مذہب کا اتنا زور ہے کہ خدا سے بھی زیادہ ” مدفون بزرگوں‘‘ کی پرستش ہوتی ہے۔ اس پر مزید اضافہ یہ کہ یہاں کی صحافت، قیادت اور مذہبی پیشوائی کو صورت حال کی اصلاح سے دل چسپی نہیں۔ وہ موجودہ صورت حال کو اپنے استحصال کی قیمتی زمین بنائے ہوئے ہیں۔
اس علاقہ کے مقبول اخبارات وہ ہیں جو ہر ہفتہ ان لوگوں کو جذباتی خبروں کی شراب پلاتے ہیں۔ یہاں کے مقبول پیشوا وہ ہیں جو بزرگوں کے طلسماتی قصے سنا کر ان کو جھوٹی تسلیوں کی ایک جنت میں غوطہ دیتے رہتے ہیں۔ یہاں کے قائدین وہ ہیں جو لفظ بازی کی سیاست میں ان کو اس طرح مد ہوش رکھتے ہیں کہ حقیقت پسندانہ انداز سے سوچنے کا انہیں کبھی موقع ہی نہیں ملتا۔ اس اندھیرے میں امید کی صرف ایک کرن ہے ۔
وہ یہ کہ ریاست میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ایک ایسا گروہ ابھر رہا ہے جو ان حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ اس قسم کے فکر مند اور حقیقت پسند نوجوان ہر جگہ ابھر رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک مثبت علامت ہے اور قوی امید ہے کہ مستقبل قریب میں ضرور اس کے نتائج بر آمد ہوں گے۔ راقم الحروف کے لئے اس سفر کی سب سے زیادہ خوش آئند بات یہی تھی۔ یہاں کے لوگوں نے ایک بڑے اجتماع کا منصوبہ بنایا تھا جس کا نام انھوں نے " اسلامی کنونشن " رکھا تھا اور اس کے اشتہارات بھی چھپوائے تھے کنونشن کی مجلس انتظامیہ کے جو رکن دہلی آئے تھے کہ مجھ کو ساتھ لے کر جائیں ، ان میں سے میں نے کہا کہ میں جلسوں اور کانفرنسوں کو ایک قسم کا جرم سمجھتا ہوں۔ ان مواقع پر جب کوئی میرے گلے میں ہار ڈالتا ہے تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ انگاروں کا طوق مجھے پہنا رہا ہے۔ پنڈال کی روشنیوں کو جب میں دیکھتا ہوں تو مجھ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جہنم کے شعلوں سے روشن کی گئی ہیں۔ جو ایڈریس مجھ کو دیا جاتا ہے ، وہ ایسا لگتا ہے جیسے مجھ کو مجرم قرار دے کر میرے خلاف عدالت کی سزا سنائی جارہی ہے۔ اس لئے اگر آپ وعدہ کریں کہ آپ وہاں اس قسم کی کوئی کارروائی نہیں کریں گے حتی کہ جلسہ کی صورت ختم کر کے اس کو غور و فکر کی مجلس بنا دیں گے تو میں چلنے کے لئے تیار ہوں۔ وہ بخوشی اس کے لئے راضی ہو گئے اور اجتماع کی پوری نوعیت بدل دی۔ یہ اگرچہ ایک سہ روزہ اجتماع تھا۔ مگر بالکل نئی قسم کا اجتماع تھا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues