Al-Risala · July 1978 · page 22

مغربی دنیا میں اسلام

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲

صرف جمعہ (۳۱ مارچ ۱۹۷۸ء) کی نماز سے پہلے ایک تقریر ہوئی۔ وسیع جامع مسجد پوری طرح بھری ہوئی تھی مقامی بستی کے علاوہ کثرت سے باہر کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ اور کوئی عمومی تقریر نہیں ہوئی۔ قیام گاہ پر رات دن کثرت سے لوگ آتے رہے اور گفتگو ئیں ہوتی رہیں۔ ان گفتگوؤں کا موضوع تمام تر آخرت اور جنت اور جہنم ہوتا تھا۔ معروف قسم کے ”ملی مسائل“ پر کوئی گفتگو یا تقریر نہیں ہوئی۔

آج کل عام طور پر جس قسم کی کانفرنسوں کا رواج ہے، دور اول میں اس کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ یہ تمام تر بدعت ہے اور اسی لئے برکت اور افادیت سے بالکل خالی۔ دور اول میں جمعہ اور عیدین اور حج کے اجتماعات کو اسلامی اجتماع کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ جو چیز ہوتی تھی وہ ذکر و نصیحت کی مختصر غیر رسمی مجلسیں تھیں نہ کہ جگمگاتے پنڈالوں کی عظیم الشان کانفرنسیں۔ اس سفر کے تجربات میں سے ایک تجربہ یہ ہے کہ پریس اور پنڈال کے مقابلہ میں تذکیری مجلسیں کہیں زیادہ مفید ہیں۔ تحریر اور تقریر کے ذریعے سننے اور سنانے والے کے درمیان جو ربط قائم ہوتا ہے وہ بڑی حد تک مصنوعی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تذکیری مجلسوں میں جو انفرادی گفتگوئیں ہوتی ہیں، وہ زیادہ بہتر طور پر آدمی کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان میں اس کی پوری شخصیت شامل آدمي کے اندر حرارت ہو تو ایک جملہ کبھی زندگی بدل دیتا ہے مرزا محمد اعظم (پیدائش ۱۹۴۰) راجوری (جموں کشمیر) میں فارسٹر ہیں وہ باہر سے جب بھی گھر آتے تو اپنے بچوں کے لئے مٹھائی پھل وغیرہ لاتے ستمبر ۱۹۷۵ کے ایک دن وہ گھر میں داخل ہوئے تو کسی وجہ سے بچوں کے لئے کچھ نہ لاسکے ۔ حسب معمول بچے ان کے گرد جمع ہوگئے۔ جب معلوم ہوا کہ وہ کوئی کھانے پینے کی چیز نہیں لائے تو بچوں کو ”اگر تُساں اساں دُستے کجھ نی آندہ پھر تس کمہانے دُسٹے آئے“ یعنی اگر آپ ہمارے لئے کھانے کی کوئی چیز نہیں لائے تو پھر گھر کس لئے آئے ہو۔

یہ جملہ مرزا محمد اعظم صاحب کو تیر کی طرح لگ گیا۔ بہت جلد میں اسی طرح خدا کے یہاں جانے والا ہوں“، انھوں نے سوچا۔ ”اگر خدا یہ کہہ دے کہ میرے لئے تم کچھ نہیں لائے تو پھر یہاں کس لئے آئے ہو، تو میرے پاس کیا جواب ہوگا“، اس سے پہلے ان کی زندگی آزاد اور غیرمذہبی زندگی تھی۔ اس واقعہ نے ان کو بالکل بدل دیا۔ وہ جائز کمائی پر قناعت کرنے لگے۔ داڑھی رکھ لی۔ نماز روزے کی پابندی کرنے لگے حج کی سعادت حاصل کی۔ اپنے بچوں کے لئے دینی تعلیم کا انتظام کیا ــــــــ آدمی کے اندر حرارت ہو تو ایک جملہ بھی زندگی کو بدل دینے کے لئے کافی ہے۔ اور اگر حرارت نہ ہو تو دلائل جھٹکا لگا۔ چھ سالہ ارشد محمود طارق نے اپنی پہاڑی زبان میں کہا:

کا انبار بھی اسی طرح بے معنی ہو جاتا ہے جس طرح جانور کے آگے تقریر کا ریکارڈ بجانا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page