Al-Risala · July 1978 · page 23

مغربی دنیا میں اسلام

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳

ہو جاتی ہے۔ پھر یہ گفتگو اگر کمرہ میں یا شہروں کی مصنوعی فضا میں نہ ہو بلکہ قدرت کے کھلے ماحول میں ہو تو اس کے اندر ایسی جان آ جاتی ہے جو کسی اور طرح ممکن نہیں۔ ہم ڈاک بنگلے کے لان میں بیٹھے ہوئے ہیں جو ایک پہاڑی کو اکاٹ کر بلندی کے اوپر بنایا گیا ہے۔ ایک طرف برف پوش پہاڑیاں ہیں۔ دوسری طرف دریاؤں اور درختوں کا منظر ہے۔ سنہری دھوپ ، نیلا آسمان، چشمے کی قدرتی موسیقی اور ان سب کے مجموعہ سے بننے والی آفاقی فضا۔ ان کے درمیان تذکیر اور سوال وجواب کی مجلس چل رہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم خدا کی گود میں ہیں۔ قبل اس کے کہ مجیب کسی سائل کے سوال کا جواب دے، کائنات اپنی خاموش زبان میں بول پڑتی ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے خود کچھ نہیں کہنا ہے بلکہ کائنات کے ساتھ ہم زبان ہو کر خدائی پیغام کو دہرادینا ہے۔ کائناتی زبان میں نشر ہونے والی بات کو انسانی زبان میں نقل کر دینا ہے۔ اس تجربہ سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ اسلامی دعوت کا کام کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کی بنائی ہوئی دنیا کے درمیان بیٹھ کر انجام دیا جائے۔ انسانوں کی تعمیر کی ہوئی چھتوں یا شامیانوں کے نیچے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ میں آپ کی تقریباً تمام مجلسوں میں شریک ہوتا رہا ہوں۔ یہاں قیام کے آخری دن ایک صاحب نے کہا "آپ ہر گفتگو میں خوف خدا اور فکر آخرت پر زور دیتے رہے ہیں۔ اگر دین یہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے لئے اس دنیا میں کچھ نہیں۔ اس قسم کا ذہن تو آدمی کو نکما بنائے گا اور کم از کم آج کی دنیا کے لئے اس کو بے کار بنا کر رکھ دے گا۔ "

میں نے کہا کہ یہ بات تجربہ سے ثابت نہیں ہوتی۔ اصحابِ رسول سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والے اور آخرت کی فکر کرنے والے لوگ تھے۔ مگر ان کے اس جذبہ نے ان کو دنیا کا سب سے زیادہ متحرک گروہ بنا دیا۔ حتی کہ انھوں نے تاریخِ انسانی کو ایسی حرکت دی جیسی حرکت اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں دی تھی ۔

پھر میں نے کہا کہ خوفِ خدا کوئی منفی جذبہ نہیں ۔ یہ انتہائی مثبت جذبہ ہے ۔ اس کے بہت سے پہلوؤں میں سے ایک پہلو کو دیکھیے ۔ دنیا میں کوئی بڑا انقلابی کام کرنے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے ، وہ اتحاد ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے اس کی وجہ ہے ایک دوسرے کے خلاف بغض و حسد اور نفرت و ضد کے جذبات پیدا ہو جانا ۔ ایک شخص دوسرے کو کسی پہلو سے بڑھتا ہوا دیکھے تو اس کے خلاف حسد کی آگ میں جلنے لگتا ہے، کسی سے کوئی شکایت ہو جائے تو آدمی کو اس سے دائمی بغض و نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو اپنی کمی نظر نہیں آتی البتہ دوسروں کی کمیوں اور خامیوں کو وہ خوب جانتے ہیں۔ اس قسم کی باتیں ہیں جنھوں نے لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے پھاڑ رکھا ہے ، وہ ایک دوسرے سے مل کر کام نہیں کر پاتے۔ آدمی اپنی بہترین طاقت دوسرے کو گرانے اور بدنام کرنے میں صرف کرتا ہے ۔ بجائے اس کے کہ اپنی قوتوں کو مثبت تعمیر کی راہ میں وقف رکھے ۔ اس مزاج کے ساتھ دس کروڑ آدمی بھی بے قیمت ہیں ۔ ان کی طاقت ”دس کروڑ نہیں بلکہ صرف ایک ہے کیوں کہ ہر آدمی اکیلا اکیلا ہے۔

اس قسم کے منفی جذبات کے خاتمہ کا واحد نسخہ خد کا خوف ہے۔ خدا سے ڈرنے والے آدمی کی نظر دوسروں کی خامیوں کے بجائے اپنی خامیوں پر ہوتی ہے۔ وہ تنقید

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page