اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳
پچھلی شریعتوں میں دین کی حقیقت گم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کے یہاں مقصد پر واقعات کا غلبہ ہو گیا۔ وہ دین کی مقصدی حیثیت کو اس کے واقعاتی پہلوؤں سے الگ کرکے نہ دیکھ سکے۔ وہ بھول گئے کہ واقعات کی حیثیت نظریات کے مقابلہ میں، ہمیشہ اضافی ہوتی ہے۔ واقعات سے بظاہر دین کی جو تصویر بن رہی تھی اسی کو انھوں نے اصل دین سمجھ لیا۔ اور پھر دین کی ایسی تشریح کر ڈالی جس کا اصل آسمانی دین سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس بگاڑ کی ایک جزوی مثال وہ ہے جو قرآن میں سورہ آل عمران (۹۳) اور سورہ انعام (146) میں بیان کی گئی ہے۔ یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم (۱۸۵۳ - ۲۰۰۰ ق م) جن کا دوسرا معروف نام اسرائیل ہے، یہود کے پیغمبر تھے۔ آپ نے طبی ضرورت کے تحت بعض جائز غذائیں چھوڑ دی تھیں۔ اسرائیلی روایات کے مطابق آپ کو عرق النشار کی شکایت تھی ۔ اس لیے بطور علاج آپ نے بعض چیزوں مثلاً اونٹ کا دودھ اور گوشت سے پر ہیز شروع کر دیا تھا۔ آپ کے بعد آپ کی اولاد نے بھی اپنے بزرگ کی تقلید میں ان کو چھوڑے رکھا۔ حتیٰ کہ آخر میں یہ ذہن بن گیا کہ یہ چیزیں بجائے خود حرام ہیں اور بالآخر یہودی فقیہوں نے اپنی مقدس کتاب (تورات) میں ان کی حرمت درج کر دی: "چوپایوں میں سے جو جگالی کرتے ہیں یا ان کے پاؤں چہرے ہوئے ہیں، تم ان کو یعنی اونٹ اور خرگوش اور سافان کو نہ کھانا، کیونکہ یہ جگالی کرتے ہیں لیکن ان کے پاؤں چہرے ہوئے نہیں ہیں۔ سو یہ تمھارے لئے ناپاک ہیں"
استثنا ۱۳: ۷ (احبار ۱۱: ۳-۶)
یہود کے ایک بزرگ پیغمبر کا بعض غذاؤں کو نہ کھانا، آپ کی زندگی کا محض ایک اتفاقی جزو تھا، اس کا آپ کے پیغمبرانہ مشن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر یہود اس فرق کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ جو چیز محض اتفاقی واقعہ کی حیثیت رکھتی تھی، اس سے وہ حرام وحلال کے قوانین اخذ کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے دین خداوندی کی ایسی تصویر بنا ڈالی جو بظاہر درست ہونے کے باوجود سراسر غلط تھی۔
بگاڑ کی اس قسم کی کلی مثال بھی یہودی کے یہاں ملتی ہے اور وہ ان کی آخرت فراموشی اور دنیا پرستی ہے۔ یہود، پیغمبر آخر الزماں کی بعثت سے قبل، دین خداوندی کے نمائندے تھے۔ اپنی اس تاریخ کے تقریباً دو ہزار سال کے دوران انھوں نے عروج وزوال کے زبر دست واقعات دیکھے۔ ایک طرف داؤد (۵۵۰ - ۱۰۲۳ قام) اور سلیمان (۹۳۲ - ۹۹۰ قام) جیسے بڑے بڑے بادشاہ ان کی قوم میں اٹھے۔ اور یوسف (۱۸۱۶ - ۱۹۰۴ قام) جیسی عظیم شخصیت ان میں پیدا ہوئی جس کو اس وقت کے شاہ مصر نے ملک کا پورا انتظام سونپ دیا اور اس کے بعد یہود کو موقع ملاکہ مصر کے انتہائی زرخیز علاقہ میں اپنی آبادیاں قائم کرسکیں ۔ فرعون کی غرقابی کے بعد وہ شام وفلسطین کے سر سبز اور زرخیز علاقہ کے وارث بنا دیئے گئے (اعراف - ۱۳۷)
دوسری طرف یہود کی تاریخ میں بار بار وہ ہولناک لمحے بھی آئے ہیں جب کہ انھوں نے اپنی بدی سے "خداوند کو غصہ دلایا۔ اور خدا وند کا قہر اسرائیل پر بھڑ کا اور اس نے ان کو غارت گروں کے ہاتھ میں کر دیا جوان کو لوٹنے لگے، اور اس نے ان کو ان کے دشمنوں کے ہاتھ جو اس پاس تھے بیچا۔ سو وہ پھر اپنے دشمنوں کے سامنے کھڑے نہ ہو سکے۔ اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues